چینی ریڈ کراس فائونڈیشن رواں سال کوئٹہ میں دوسرا ایمرجنسی کیئر یونٹ قائم کرے گی

فائونڈیشن چین پاکستان زندگی بچائو راہداری کے تحت پہلا سنٹر گوادر میں قائم کر چکی ہے جس کا مقصد زندگی بچانے سے متعلق ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہے ریڈ کراس فائونڈیشن پاکستانی ہلال احمر سوسائٹی سے مشاورت کے بعد میڈیکل ایمرجنسی خدمات کے لیے مزید ٹیمیں بھجوائے گی فائونڈیشن کے چیئرمین لیو ژوانگو کا ’’اے پی پی‘‘ کو انٹرویو

اتوار اپریل 14:10

اسلام آباد ۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) چین کی ریڈ کراس فائونڈیشن (سی آر سی ایف) رواں سال بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دوسرا ایمرجنسی کیئر یونٹ قائم کرے گی۔ فائونڈیشن کے چیئرمین لیو ژوانگو نے اتوار کو ’’اے پی پی‘‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ فائونڈیشن اپنا پہلا سنٹر گوادر میں قائم کر چکی ہے ’’جو چین پاکستان زندگی بچائو کی راہداری کے تحت مکمل کیا گیا ہے‘‘ توقع ہے کہ حکومت پاکستان کے متعلقہ حکام کو یہ سینٹر بھرپور معاونت فراہم کرے گا۔

گوادر ایمرجنسی سنٹر کی کارکردگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ سنٹر ضروری طبی آلات اور ساز و سامان کی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ میڈیکل ماہرین کی مشاورت سے کام کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس سینٹر کے قیام کا مقصد زندگی بچانے سے متعلق ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ریڈ کراس فائونڈیشن اور پاکستان کی ہلال احمر سوسائٹی کی باہمی مشاورت کے بعد میڈیکل ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کے لیے مزید طبی ٹیمیں بھجوائی جائیں گی جو پاکستانی طبی عملے کو تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی پیشہ وارانہ ضروریات کو پورا کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ دو سال تک چینی میڈیکل ٹیم سینٹر میں خدمات سر انجام دے گی جس کے بعد یہ مرکز پاکستان کی ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کر دیا جائے گا جو اسے خود مختار طور پر چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ کراس فائونڈیشن کی پہلی طبی ماہرین کی ٹیم حواسان ہسپتال فوڈن یونیورسٹی اور بیجنگ کے ریڈ کراس 999 ایمرجنسی ریسکیو سنٹر سے بھجوائی جا چکی ہے جو 12 افراد کے طبی ماہر عملے پر مشتمل ہے۔

یہ ٹیم ہستپال ایمرجنسی کیئر سے قبل جنرل سرجری، ٹیسٹ، فارمیسی، ہنگامی پیوندکاری اور ڈیزاسٹر ریلیف کی فراہمی کی خدمت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ،یہ ٹیم چھ ماہ سے گوادر میں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ دوسری میڈیکل ٹیم اپریل 2018ء میں ہی پرانی ٹیم کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ وائس چیئرمین نے بتایا کہ رواں سال مارچ کے آخر تک چینی ریڈ کراس فائونڈیشن نے دس ملین آر ایم بی کی سرمایہ کاری انفراسٹرکچر، آلات اور عملے کی صورت میں گوادر کے اس ایمرجنسی دیکھ بھال کے سینٹر میں فراہم کی ہے۔

ایمرجنسی سہولیات سے استفادہ کرنے والوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین اور پاکستان کے ایک ہزار سے زائد مریضوں کو سینٹر میں طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، فقیر پرائمری سکول کے بچوں کے ساتھ ساتھ گوادر بندرگاہ کے 260 افراد کا طبی معائنہ کیا گیا اور یہ سکول اور بندرگاہ بھی چین کے تعاون سے تعمیر کئے گئے ہیں، مقامی مریضوں کو بھی علاج معالجے کی شاندار سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائونڈیشن کا مقصد بیلڈ روڈ انسانی بنیادوں کی خدمات کی فراہمی ہے جس کے تحت عالمی ایمرجنسی کوریڈور اور ریسکیو سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں گزشتہ برس گوادر میں لائف ریسکیو کوریڈور کا قیام عمل لایا گیا اور اب دوسرا سنٹر کوئٹہ میں قائم کیا جائے گا۔