کابل کے الیکشن سنٹر میں خود کش بم دھماکا، 38افرادہلاک ،60زخمی

حملے کا نشانہ کابل کے مغربی حصے کے علاقے دشتِ برخی میں واقع ایک رجسٹریشن سنٹر بنا،سربراہ کابل پولیس کی پریس کانفرنس

اتوار اپریل 15:10

کابل کے الیکشن سنٹر میں خود کش بم دھماکا، 38افرادہلاک ،60زخمی
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہو گئے ۔یہ دھماکا ووٹروں کے رجسٹریشن سنٹر میں ہوا اور یہ بظاہر ایک خودکش حملہ تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات افغان وزارت صحت کے ترجمان نے ایک بیان میں بتائی،،کابل کے ایک ووٹر رجسٹریشن سنٹر میں ہونے والے خودکش بم حملے کے نتیجے میں 38افرادہلاک ہوگ گئے جبکہ 60افرادزخمی بھی ہوئے ۔

محکمہ صحت کے ایک اوراہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے مقام سے لوٹنے والی ایمبولینسوں میں اب تک کم از کم38 لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ شہر کے مختلف ہسپتالوں میں 60 زخمیوں کو لایا جا چکا ہے۔ طبی اہلکار کے مطابق ہلاکتوں کی حتمی تعداد ابھی تک نا معلوم ہے۔

(جاری ہے)

کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمان رحیمی نے مقامی ٹی وی سے بات چیت میں بتایا کہ یہ بم دھماکا بظاہر ایک خودکش حملہ آور نے کیا۔

رحیمی کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن اس حوالے سے اب تک مزید تفصیلات موصول نہیں ہوئیں۔اس حملے کا نشانہ کابل شہر کے مغربی حصے کے علاقے دشتِ برخی میں واقع ایک رجسٹریشن سنٹر بنا۔امریکی ٹی وی کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ کئی ہفتوں کے نسبتا سکون کے بعد یہ دھماکا ہوا۔ اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی عسکریت پسند گروہ نے قبول نہیں کی۔

افغانستان میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار پارلیمانی انتخابات رواں برس اکتوبر میں ہونا ہیں اور اس سلسلے میں ملک بھر میں ووٹروں کی رجسٹریشن کے لیے مراکز بنائے گئے ہیں۔ ان مراکز کے بارے میں خدشات پائے جا رہے تھے کہ یہ عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں،اتوار 22 اپریل کو ہونے والے اس حملے کا نشانہ کابل شہر کے مغربی حصے کے علاقے دشتِ برخی میں واقع ایک رجسٹریشن سنٹر بنا۔ اس علاقے میں زیادہ تر شیعہ ہزارہ مسلمان برادری کے لوگ آباد ہیں جو اکثر دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ داعش کی طرف سے قبول کی جاتی ہے۔