شام کے شہر القلمون میں روسی فضائیہ کی بمباری سے چھ افرادہلکا

معاہدے کے تحت القلمون سے باغیوں کا انخلا شروع ، حکومت کا کنٹرول بحال ہو گیا،باغیوں کے ترجمان کی گفتگو

اتوار اپریل 15:10

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) حکومت شام سے معاہدے کے تحت باغیوں نے دمشق کے شمال مشرقی علاقے کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے اور وہ ملک کے شما ل کی جانب جا رہے ہیں، باغی جنگجو اور ان کے خاندانوں کو القلمون سے ادلیب اور جرابلس بھیجا جائے گا۔ یہ علاقے ترکی کی سرحد کے قریب ہیں اور ابھی تک باغیوں کے کنٹرول میں ہیں،اس انخلا کے بعد دمشق سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مشرقی القلمون کا کنٹرول ریاست کے ہاتھ میں آ جائے گا،ادھر گزشتہ روز شروع ہونے والی روسی گولہ باری سے چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

شامی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق باغیوں کے عہدے داروں نے کہا کہ حکومت اور ان کے درمیاں ہتھیار ڈالنے کا ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جو شام کے صدر بشار الاسد کی ایک اور فتح ہے۔

(جاری ہے)

اس انخلا کے بعد دمشق سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مشرقی القلمون کا کنٹرول ریاست کے ہاتھ میں آ جائے گا۔صدر اسد، جنہیں روس اور ایران کی مدد حاصل ہے، دمشق کے نزدیک موجود بچے کچے باغیوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں تاکہ غوطہ میں باغیوں کو شکست دینے سے شروع ہونے والے سلسلے کو قائم رکھا جا سکے۔

غوطہ کا شمار دار الحکومت کے نزدیک باغیوں کے ایک مضبوط ٹھکانے کے طور پر کیا جاتا تھا۔شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا کہ باغی جنگجو اور ان کے خاندانوں کو القلمون سے ادلیب اور جرابلس بھیجا جائے گا۔ یہ علاقے ترکی کی سرحد کے قریب ہیں اور ابھی تک باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔عہدے داروں کا کہنا تھا کہ3200 باغیوں اور ان کے خاندانوں کو بھیجا جا رہا ہے۔القلمون میں باغیوں کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ روس کی جانب سے گولہ باری میں شدت آنے کے بعد معاہدے پر رضامند ہوئے ہیں۔گزشتہ روز شروع میں ہونے والی گولہ باری سے چھ افراد ہلاک ہو گئے۔اطلاعات کے مطابق باغیوں کے انخلا کا آغاز دس بسوں پر مشتمل ایک قافلے سے ہوا جو شمال کی جانب سفر کر رہا تھا۔