آئینی سفارشات میں قائمقام وزیراعظم اور سینئر وزیر کا عہدہ ختم کرنے کی تجویز دی ہے یہ دنیا کے کسی آئین میں نہیں ‘چوہدری طارق فاروق

بین الاقوامی اور قومی سطح پر کشمیر کاز کے حوالے سے آزاد حکومت اورکشمیری لیڈر شپ کے فعال کردار کی ابتداء ہو گئی ہے کردار مانگا نہیں جاتا بلکہ بنایا جاتا ہے

اتوار اپریل 15:10

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) آزاد جموں وکشمیر کے قائمقام وزیر اعظم چوہدری طارق فاروق نے کہا ہیکہ انہوں نے آئینی سفارشات میں قائمقام وزیراعظم اور سینئر وزیر کا عہدہ ختم کرنے کی تجویز دی ہے یہ دنیا کے کسی آئین میں نہیں ہیں صرف ہمارے آئین میں ہی درج ہیں بین الاقوامی اور قومی سطح پر کشمیر کاز کے حوالے سے آزاد حکومت اورکشمیری لیڈر شپ کے فعال کردار کی ابتداء ہو گئی ہے کردار مانگا نہیں جاتا بلکہ بنایا جاتا ہے کشمیریوں کا کیس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے اورمملکت پاکستان پشت بان ہے عالمی سطح پر آواز اٹھانے کیلئے آزاد حکومت اور کشمیری لیڈر شپ پر کوئی قدغن یا رکائوٹ نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی اورطاہر احمد فاروقی سے ملاقات میں کیا ، طارق فاروق نے کہاکہ حکومت نے احتساب بیورو کے نئے رولز کی منظوری دی تھی جن کو عدلیہ میں چیلنج کر دیا گیا ہے جسکا فیصلہ آ گیا توجو بھی کرپشن کا مرتکب ہو گا وہ جزاء سزاء کے عمل سے گزرے گا صاف شفاف غیر جانبدارانہ احتساب کا تسلسل چاہتے ہیں انکا کہنا تھا کہ قائمقام وزیر اعظم کو ماسوائے اسمبلی توڑنے کے تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں وزارت عظمیٰ میرے پاس امانت ہے اور وزیراعظم فاروق حیدر کی ہدایت اور پالیسی کے مطابق پیش کردہ امور پر فیصلے کررہا ہوں قائمقام اور سینئر وزیر کا عہدہ دنیا میں کسی آئین میں نہیں ہے ، اسلئے یہاں بھی ختم کرنے کی سفارش کی ہے بھارتی وزیراعظم کی لندن آمد پر ساری کشمیری لیڈر شپ کا کاندھے سے کاندھا ملا کر مقبوضہ کشمیر میں قتل عام مظالم کیخلاف زبردست احتجاج ، اتحاد ، یکجہتی اور کشمیر کاز کے حوالے سے ایک آواز ہونے کا ثبوت ہے جس میں وزیر اعظم فاروق حیدر ،اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بھی شریک ہوئے ہم اس جانب 6 ماہ پہلے سے توجہ دلا رہے تھے جسکا آغاز وزیراعظم نے اب کیا ہے چوہدری طارق فاروق نے کہا نئے مالی سال کا بجٹ خطے اور عوام کی ضروریات مستقبل کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا جارہا ہے اس میں سیاسی پسند و ناپسند کا عمل دخل نہیں ہوگا ۔