سپر یم کورٹ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بے ضابطگیوں کیخلاف انکوائری نیب کو بھجوا دی،آئندہ ہفتے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

ممبر پی آئی سی بورڈ ، اورسیز کمشنر افضال بھٹی کی تعیناتی کے حوالے سے تمام ریکارڈ طلب، تمام متعلقہ حکام کو 28 اپریل کو طلب کرلیا گیا

اتوار اپریل 15:50

لاہور۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) سپر یم کورٹ نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف انکوائری نیب کو بھجوا دی۔ عدالت نے پی آئی سی بورڈ کے ممبر و اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے کمشنر افضال بھٹی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مبینہ گھپلوں کے حوالے سے درخواست پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

درخواست گزارخاتون نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ اس نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں گھپلوں کی نشاندہی کی تو اس کی پاداش میں اسے نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے موقف اختیار کیا کہ اس ضمن میں تمام متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا مگر بے ضابطگیوں پر کارروائی کرنے کی بجائے اسے ہی فارغ کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

متاثرہ خاتون روسٹرم پر کھڑی اپنی روداد سناتے آبدیدہ ہو گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاملے کی تہہ تک جائیں گے، اسی لئے کیس نیب کو بھجوایا جا رہا ہے۔ ع۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ممبر پی آئی سی بورڈ ، اورسیز کمشنر افضال بھٹی کی تعیناتی کے حوالے سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دوہری شہریت کے حامل شخص کو کیسے اوورسیز کمشنر اور پی آئی سی میں لگا دیا گیا۔ چیف جسٹس نے اورسیز کمشنر سے تنخواہ بارے استفسار کیا تو افضال بھٹی نے جواب دیا کہ میری تنخواہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صوبے میں چیف سیکرٹری 1 لاکھ 80 ہزار لے رہا ہے، تمہیں سرخاب کے پر لگے ہیں، باہر سے سفارشوں پر بھرتیاں کی جاتی ہیں، اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی مداخلت پر سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا یہ قاضی اتنا کمزور نہیں، معاملہ نیب کو بھجواتے ہیں سب سامنے آ جائے گا۔ عدالت نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بے ظابطگیوں پر ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کو معاملے کی چھان بین کے لیے طلب کر لیا اور اوورسیز پاکستانی کمشنر پنجاب اور ممبر بورڈ پی آئی سی افضال بھٹی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ۔

عدالت نے ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کو معاملے کی انکوائری کرکے آئندہ ہفتے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور تمام متعلقہ حکام کو 28 اپریل کو طلب کر لیا۔