10سالوں میں لاہور میں پینے کا صاف پانی ختم ہو سکتا ہے۔ماہرین کا انتباہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار اپریل 16:22

10سالوں میں لاہور میں پینے کا صاف پانی ختم ہو سکتا ہے۔ماہرین کا انتباہ
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔22 اپریل۔2018ء) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ10سالوں میں لاہور میں پینے کا صاف پانی ختم ہو سکتا ہے۔۔پاکستان زیر زمین پانی استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جہاں کی 60 سے 70 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ ضروریاتِ زندگی کے لیے اسی پانی پر انحصار کرتی ہے۔تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں سالانہ کمی کی وجہ سے پانی کا یہ ذخیرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔

غیرملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میںپنجاب اریگیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر غلام ذاکر سیال کے حوالے سے بتایا کہ اگر زیر زمین پانی کو بچانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے10 برس میں لاہور شہر میں پینے کا صاف پانی ختم ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ اوسطا اڑھائی فٹ نیچے جا رہی ہے۔ کئی مقامات پر پانی کی سطح 100 فٹ سے بھی نیچے جا چکی ہے جو کہ قدرتی حد سے کم ہے اور یہ پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔

پینے کے قابل پانی حاصل کرنے کے لیے زمین میں پانچ سے سات سو فٹ تک بورنگ یا کھدائی کی جا رہی ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی صرف 1000 فٹ تک موجود ہے۔واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر زاہد عزیز مانتے ہیں کہ زیر زمین پانی کا ذخیرہ سکڑ رہا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت منصوبہ بندی کر چکی ہے۔۔لاہور میں نہر پر پانی کو صاف کر کے استعمال کرنے کا ایک پلانٹ لگایا جائے گا جو تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔

اس سے روزانہ 100 کیوسک پانی نکالا جائے گا جبکہ ہمارا ہدف 2035 تک اس کو 1000 کیوسک تک لے کر جانا ہے۔ان اقدامات کا مقصد زیرزمین پانی پر انحصار کو کم کرنا ہے۔زاہد عزیز کا ماننا ہے کہ اس کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا۔زیر زمین پانی لاہور کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔ پنجاب کے زراعت کے تحقیقاتی ادارے کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واسا نے 150 سے 200 میٹر کی گہرائی پر 480 ٹیوب ویل لگا رکھے ہیں جو روزانہ 1170 کیوسک پینے کا پانی نکال رہے ہیں۔

رپورٹ میں جن بنیادی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے جو زیرزمین پانی کی کمی کا سبب بن رہی ہیں ان میں بنیادی مسئلہ حد سے زیادہ پانی پمپ کیا جانا ہے۔اس کے علاوہ دریائے راوی میں پانی کی روانی میں کمی اور نکاسی کے پانی کی ذریعے صاف پانی میں آلودگی کی ملاوٹ اور زیرِ زمین ذخیرے کی بحالی نہ ہونا بڑی وجوہات ہیں۔ غلام ذاکر سیال کہتے ہیں کہ ہمارا پانی کا بجٹ منفی میں ہے یعنی ہم جتنا پانی زمین سے نکال رہے ہیں اتنا واپس نہیں جا رہا۔

واسا کے 1100 سے زائد کیوسک پانی کے علاوہ نجی ہاﺅسنگ سکیموں میں لگے ٹیوب ویل روزانہ 100 کیوسک اور صنعتیں 375 کیوسک پانی نکال رہی ہیں۔ اس طرح لاہور میں زمین سے نکالے جانے والا پانی روزانہ اوسط مقدار 1645 کیوسک سے زائد ہے۔زمین کے نیچے موجود پانی کا ذخیرہ جسے ایکوی فائیر بھی کہتے ہیں دراصل ایک پیالے کی مانند ہے۔ ہم جتنا پانی اس پیالے سے نکالتے ہیں، اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اتنا ہی پانی اس میں واپس بھی جائے لیکن لاہور میں ایسا نہیں ہو رہا۔

غلام ذاکر سیال نے مزید کہا کہ زیرزمین پانی کے ذخیرے کو بحال کرنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ دریائے راوی تھا مگر اس میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پانی بتدریج کم ہوا ہے۔اس کے علاوہ تین بڑے نکاسی کے ڈرین دریا میں گرتے ہیں جن کے باعث پانی میں ہر قسم کی ٹھوس اور مایہ آلودگی شامل ہوتی ہے جو گھروں اور صنعتوں سے نکلتی ہے۔ جب یہ پانی زیرِ زمین جاتا ہے تو صاف پانی کی اوپری سطح کو آلودہ کرتا ہے‘ اس طرح وہ پینے کے قابل نہیں رہتا۔

ایم ڈی واسا زاہد عزیز نے دعوی کیا کہ لاہور میں فی فرد پانی کی فراہمی موجودہ 70 گیلن روزانہ ہے جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔اب ہمارا ارادہ یہ ہے کہ گھروں میں میٹر لگائے جائیں اور اس کو 40 گیلن تک لایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پانی کے 7 لاکھ کنکشن ہیں جن میں 50 ہزار پر میٹر لگائے جا چکے ہیں۔ اور ہدف ہے کہ آئندہ تین برس میں تمام کنکشنز پر میٹر نصب ہو جائیں۔

اس کے بعد ہم ایسا طریقہ کار اپنائیں گے کہ جس حساب سے لوگ پانی استعمال کریں اس حساب سے بل بھیجا جائے اور جو پانی کم استعمال کرے اس کو مراعات بھی دی جائیں۔زاہد عزیز نے بتایا کہ نہر منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ دوسرے حصے میں دریائے راوی پر ایک ڈیم تعمیر کیا جائے گا جس میں پانی لا کر چھوڑا جائے گا۔اس ڈیم سے ہم مزید 900 کیوسک پانی نکالیں گے جو ہماری روزانہ کی ضروریات کو پورا کرے گا۔