سیکورٹی واپس لیئے جانے سے عدم تحفظ کا شکار بن گئے ،میر عبدالرحیم کرد

معمولات زندگی میں بے حد فرق پڑیگا ، میئر خضدار

اتوار اپریل 17:13

خضدار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنماء میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد نے کہاہے کہ ہماری سیکورٹی واپس لیئے جانے سے ہم عدم تحفظ کا شکار بن گئے ہیں ، جس کی وجہ سے ہماری معمولات زندگی میں بے حد فرق پڑیگا ،سیکورٹی واپس لیئے جانے کے باعث ہم اب اپنے آفس کو بھی ٹائم نہیں دے سکتے، اور نہ ہی سیاسی دورے کرسکیں گے۔

عدالت عالیہ کے فیصلے کی صحیح معنوں میں تشریح بھی نہیں کی گئی ، جہاں ضروت ہووہاں سے سیکورٹی ہٹانے کا حکم نہیں دیا گیا ، جن سیاسی رہنمائوں کو سیکورٹی کی ضرورت ہے ان کی سیکورٹی ان سے واپس نہ لی جائے بلکہ ان کو برقرار رکھا جائے ،تاکہ ان کا تحفظ ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد نے کہاکہ سیکورٹی کوئی شان و شوکت کے لئے اپنے ہمراہ نہیں اٹھاتا ہے بلکہ یہ ایک ضرورت ہے ،چونکہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور وقتافوقتا مختلف علاقے و اضلاع کا دورہ کرتے رہتے ہیں جہاں سیکورٹی کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے ، سیکورٹی کا مقصد اپنا تحفظ کرنا ہے جب سیکورٹی ساتھ نہیں ہوگی تو ہم عدم تحفظ کا شکار بن جائیں گے ۔

اس حوالے سے ہمارے خدشات اور بے حد تحفظات ہیں ہم سے جو سیکورٹی لی گئی ہے اسے ہمیں واپس مہیا کیا جائے۔میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد نے کہاکہ بلوچستان میں حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن اس حد تک بہتر بھی نہیں ہیں کہ جس کو ایک سو فیصد کہا جائے ،پُرسکون انداز میں ہمارے سیاسی نقل و حرکت کے لئے لازمی ہے کہ ہماری سیکورٹی ہمارے حوالے کردیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ جب سیکورٹی نہیں ہوگی تو نہ صرف ہم سیاسی ایکٹویٹیز سے دوررہ جائیں گے بلکہ عوامی خدمت بھی صحیح معنوں میں نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے دفتر کو ٹائم دے سکیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں سیاسی رہنمائوں اور قبائلی عمائدین و عوامی نمائندوں کو سیکورٹی کی بے حد ضرورت ہے ان سے سیکورٹی واپس نہ لی جائے ۔

متعلقہ عنوان :