پشتونوں کو اپنی سرزمین کے وسائل اور میگا ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھنا انصاف کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے ،عوامی نیشنل پارٹی

زبانی کلامی اور سرکاری فائلوں پر مبنی ترقی نہیں بلکہ عملی تعمیر و ترقی چاہتے ہیں ،رہنمائوں کاخطاب

اتوار اپریل 17:13

%گلستان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پشتونوں کو اپنی ہی سرزمین کے وسائل اور میگا ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھنا حق اورانصاف کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے ، پشتون زبانی کلامی اور سرکاری فائلوں پر مبنی ترقی نہیں بلکہ عملی تعمیر و ترقی چاہتے ہیں فائلوں میںتوصوبے کے چار سالوں کا اکثریتی ترقیاتی بجٹ گلستان منتقل ہوتا رجا مگربرسرزمین حقائق یہ ہیں کہ گلستان میں آج بھی لوگوں کو جان ومال کا تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی انہیں بنیادی سہولیات دی گئی ہیں، نام نہاد قوم پرستوںاورمذہب کے مقدس نام پر سیاست کرنے والوں نے پشتونوں کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا، لاہور میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے حکمران بتائیں اگر پشتون اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر احتجاج بھی نہ کریں تو کیا راستہ اختیار کریں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ، صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈرانجینئر زمرک خان اچکزئی ،،ڈاکٹر صوفی اکبر، جمال الدین رشتیا، جاویدخان کاکڑ، خان محمدکاکڑ،لالا خان مسیزئی، حبیب اٹل، کلیم اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ و دیگر نے اتوار کے روز گلستان عبدالرحمان زئی میں باچاخان مرکز کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جلسہ عام میںلوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی جنہوں نے اے این پی کے صوبائی قائدین کابھرپورخیر مقدم کیا۔اس موقع پر منعقدہ جلسہ عام سے خطا ب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ پشتونوں سیاسی اور فکری بیداری فخرافغان باچاخان کی اس تحریک کا ثمر ہے جو انہوں نے بیسویں صدی میں انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں شروع کی باچاخان بابا نے بیسویں صدی کے دربدر پشتونوںکو ایک مرکز پر اکھٹا کرنے اور انہیں تنظیم سے روشناس کرانے کاکام شروع کیا او راسے انجام تک پہنچایا انہوں نے بیسویں صدی میں جدید سائنسی بنیادوں پر تحریک کی آبیاری کی اور پشتون افغان وطن کے گھر گھر تک جا کرتنظیم اور منظم تنظیمی اداروں سے پشتونوں کوروشناس کرایا یہ فخر افغان باچاخان اور ان کے ساتھیوں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ پشتون اپنی سرزمین کی اہمیت اور اپنی سرزمین سے نکلنے والے وسائل کی اہمیت سے آگاہ ہوئے آج بھی فخر افغان باچاخان کے متعین کردہ راستے اور تشکیل دیئے گئے پلیٹ فارم عوامی نیشنل پارٹی کے بغیرقومی مسائل کا حل ناممکن ہے پشتون اگر چاہتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بڑے تمام مسائل حل ہوں ان کی سرزمین پر امن آئے اور ان کے بچے اکیسویں صدی کی سہولیات سے مستفید ہوں تو اس مقصد کے حصول کیلئے جدوجہد کا واحد پلیٹ فارم عوامی نیشل پارٹی ہے جس نے ہمیشہ اپنے عوام کی بات کی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو اپنی آئینی اور قانونی حقوق چاہئیں وہ حقوق جو ملک کی دیگر اکائیوں کو حاصل ہیں پشتون بھی ان کے حقدار ہیں پشتون اس وقت احساس محرومی کی انتہاء پر ہیں ،انہوں نے لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاریاں غیر آئینی اورغیر قانونی ہیں اگرسرکار لوگوں کو تحفظ نہیں دے سکتی ،پشتونوں کو ترقی اور خوشحالی نہیں دے سکتے سی پیک سے پشتون وطن کے علاقوں کو نکال کر پشتونوں کو ترقی سے محروم رکھے گی پشتون وطن کے وسائل سے پشتونوں کو محروم رکھا جائے گا ہمارے پانی سے پیدا کردہ بجلی سے بھی ہم محروم رہیں گے ہمیں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہیں ملیں گے اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں سے ہمیں محروم رکھا جائے گا اور ہم پر روزگار کے دروازے بند کئے جائیں گے تو پشتون آواز تو اٹھائیں گے حکمران بتائیں کہ اگر پشتون اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر احتجاج بھی نہ کریں تو کیا راستہ اختیار کریں۔

مقررین نے گلستان میں تعمیر وترقی کے منصوبے شروع نہ کرنے کے اقدام کو پشتون دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عرصے سے سن رہے تھے کہ صوبے کے جتنے بھی ترقیاتی فنڈز ہیں وہ گلستان قلعہ عبداللہ منتقل ہوئے ہیں کوئٹہ میں لوگ طعنے دیتے ہیں کہ پورے صوبے کے فنڈز قلعہ عبداللہ اور گلستان چلے گئے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ گلستان آج بھی قرون وسطیٰ کا منظر پیش کررہا ہے یہاں کے لوگوں کو آج بھی جان و مال کے تحفظ سے لے کرپینے کے صاف پانی تک مسائل ہی مسائل کا سامنا ہے زراعت تباہ ہوچکی ہے روزگار کے ذرائع ختم ہوچکے ہیں سکول کالج اور ہسپتال کھنڈرات میں بدل چکے ہیں ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کہاں گئے ترقیاتی فنڈز صوبے اور وفاق سے آنے والے ترقیاتی پراجیکٹس اگر برسرزمین زمین دکھائی نہیں دیتے تو بتایا جائے کہ کہاں گئے انہوں نے کہا کہ ، پشتون زبانی کلامی اور سرکاری فائلوں پر مبنی ترقی نہیں بلکہ عملی تعمیرو ترقی چاہتے ہیں فائلوں میں توصوبے کے چار سالوں کا اکثریتی ترقیاتی بجٹ گلستان منتقل ہوتا رجا مگر یہاں آکر پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف سرکاری فائلوں تک محدود تھا حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے چار سال تک ایک گروہ نے پشتون قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر پشتون دشمنی کی اور اس سے قبل مسلسل کئی ادوار تک یہاں مذہب کے مقدس نام پر سیاست کرنے والوں کی حکومت رہی انہوں نے بھی عوام کو دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ انتخابات قریب آتے ہی اب ایک بار پھر وہی پرانے لوگ نئی جعلسازی کی کوشش کریں گے یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ازخود ان کا محاسبہ کریں اور ان سے یہ بنیادی سوال پوچھیں کہ پانچ سال تک وہ کہاں غائب تھے۔انہوں نے کہا کہ گلستان عبدالرحمان زئی میں باچاخان مرکز کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے باچاخان ایک فرد یا ایک پارٹی کا نہیں بلکہ ایک پوری تحریک کا نام ہے جو پشتونوں کی ملی اور فکری بیداری کی تحریک ہے جس میں زئی اور خیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔