کراچی شہر کے ساتھ ایک بڑی ظلم کی داستان ہے، رونے دھونے کا وقت نہیں نہ ہی اس سے کوئی فائدہ ہوگا ، شہباز شریف

شہر پر جتنے بھی اربوں ، کھربوں کے فنڈز لگے وہ کہاں گئے اس کا پتہ لگایا جائے، مرکزی صدر مسلم لیگ (ن) روشنیوں کے شہر کی روشنیوں کی بحالی کو واپس لانے کے لئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا کوئی ایک چاہے کہ میں تنہااس شہر کی حالت کو بہتر بنادوں یہ ممکن نہیں وزیر ا عظم سے درخواست کی رمضان میں کراچی میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے ، بہادرآباد میں ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر میں رہنمائوں سے ملاقات

اتوار اپریل 18:10

راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر و وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی شہر کے ساتھ ایک بڑی ظلم کی داستان ہے لیکن یہ رونے دھونے کا وقت نہیں نہ ہی اس سے کوئی فائدہ ہوگا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس شہر پر جتنے بھی اربوں ، کھربوں کے فنڈز لگے وہ کہاں گئے اس کا پتہ لگایا جائے، روشنیوں کے شہر کی روشنیوں کی بحالی کو واپس لانے کے لئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا کوئی ایک چاہے کہ میں تنہااس شہر کی حالت کو بہتر بنادوں یہ ممکن نہیں، میں نے وزیر ا عظم سے درخواست کی ہے کہ رمضان میں کراچی میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور بلاتعطل شہریوں کو بجلی فراہم کی جائے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکزی دفتر میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، محترمہ نسرین جلیل،، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن، میئر کراچی وسیم اختر اور ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنماں سے تقریبا ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا، شہباز شریف کے ہمرا ہ گورنر سندھ محمد زبیر، مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ، سندھ کے سیکریٹری جنرل سنیٹر سلیم ضیااور دیگر مسلم لیگی رہنما بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

شہباز شریف نے کہا کہ میرا ایک ہفتہ میں کراچی کا یہ دوسرا دورہ ہے آج پیر کو کراچی میں سی پیک کانفرنس ہورہی ہے، میرا ایم کیو ایم بہادرآباد کی قیادت سے بہت مفید ملاقات ہوئی ہے میں یہ بات واضح الفاظ میںکہتا ہوں کہ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، کراچی شہر ایک ماں کی طرح سے ہے اس نے پورے ملک کے لوگوں کو گود لیا ہوا ہے، یہاں تمام قومیتوں کے لوگ آباد ہیں جن میں پنجابی، سندھی ، بلوچ ، کشمیری، پختون، مہاجر اور دیگر قومیتوں کے لوگ ہیں، ہم ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر ان سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں اس شہر کی روشنیاں جو کہ مدھم ہوچکی ہیں تاکہ پھر سے بحال ہوں،،الیکشن آنے والے ہیں جو پارٹی اچھا پرفارمنس کرے گی وہ یہاں سے کامیابی حاصل کرے باقی اللہ جانتا ہے کون یہاں سے کامیابی حاصل کرے۔

انھوں نے کہا کہ جب 2013میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو اس شہر کی امن و امان کے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب تھی نواز شریف نے اس شہر میں امن کے قیام کا فیصلہ کیااور رینجرز کو اس سلسلے میں خصوصی ٹاسک دیا گیا۔ رینجرز نے اس سلسلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں کراچی میں امن کے قیام کا تمامتر کریڈٹ نوازشریف اور ان کی حکومت کو جاتا ہے۔

خدا کا شکر ہے کراچی اب ایک پر امن شہر بن چکا ہے۔۔شہباز شریف نے کہا کہ امن و انصاف آپس میں جڑے ہوئے ہیں، کراچی پورے ملک کا معاشی حب ہے، لیکن یہ شہر گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے، میں یہاں کوئی سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کرنے نہیں آیایہاں معاشی انصاف، اور امن و استحکام وقت کی شدید ترین ضرورت ہے۔ اس بات کا پتہ لگانا ہوگا کہ جو یہاں اربوں اور کھربوں کے فنڈز کے دعوے کئے گئے تھے وہ اربوں ، کھربوں روپے کہاں گئے۔

کراچی میں جو بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے اس کی سب سے زیادہ ذمے داری کے الیکٹرک پر عائد ہوتی ہے۔ اس نے ڈھائی ڈھائی سو میگاوات کے دو بجلی کے پرجیکٹ شروع کرنے تھے ، لیکن واپڈا سے بجلی حاصل کرنے کی وجہ سے اس نے اپنے بجلی کے یہ پاور پلانٹ نہیں چلائے،، اس ہی طرح سے فرنس آئل کی خریداری نہیں کی،انھوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم سے گزارش کی ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں کراچی میں شہریوں کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جائے اور کوئی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے،انھوں نے کہا کہ کراچی شہر میں ہمیں اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ ہے اگر ہمیں موقع ملا تو ہم ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ ملکر اس شہر میں پانی ، بجلی ، ٹرنسپورٹ، سڑکوں کا جال پھیلانے سمیت تمام مسائل حل کریں گے۔

اور کراچی میں ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی قائم کریں گے۔ ڈیڑھ انچ کی مسجد علیحدہ بنانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا ۔اور ہم اس شہر کو جنوبی ایشیا کانیویارک بنائیں گے۔ ایم کیو ایم پاکستان بہادرآباد کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہماری شہباز شریف سے ملاقات صرف فوٹو سیشن نہیں تھا، شہباز شریف نے ہماری گذارشات کو بہت سنجیدگی سے سنا ہے، ہم نے انھیں بتایا کہ سندھ کے شہری علاقوں پر ،مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت مسلت ہے، ڈھائی سے تین کروڑ آبادی کے اس شہرکو دانستہ طور پر مردم شماری میں کم آبادی رکھی گئی اور حلقہ بندیاں اس کی بھی آدھی طور پر کم کردی گئیں، اور ایک سازش کے ذریعے سے شہروں کی سیاسی نمائندگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی، انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان تیس سالوں سندھ کے شہروں کی نمائندہ جماعت ہے۔

، انھوں نے کہا کہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد مزید ترمیم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اختیارات نچلی سطح تک پہنچیں،آئین کے آرٹیکل 140کے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلدیاتی حکومتوں کو مکمل خود مختاری دی جائے۔۔بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات نہ دینا غیر آئینی اقدام ہے۔انھوں نے کہا کہ جو کچھ بھی پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت نے کراچی شہر کے ساتھ جو کچھ کیا اب ہمیں ان کی نیتوں کے حوالے سے کوئی شبہ نہیں ہم وفاقی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ مالیاتی اور سیاسی طور پر ہماری مدد کریں اور کراچی شہر کی بہتری کے لئے سپورٹ کریں۔

کراچی اور حیدرآباد کے لئے جو وفاقی حکومت نے پیکیج دیا ہے، اس کی رقم کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کراچی کے شہریوں کی احساس کمتری کو دور کیا جائے کہ وہ دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری ہیں۔