مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں نے کراچی میں عوامی مسائل کو بنیاد بناکر آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا

کراچی میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہاہے اور شہر میں مختلف مقامات مذکورہ عوامی مسائل پر احتجاج کرکے عوامی کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں

اتوار اپریل 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں نے کراچی میں عوامی مسائل کو بنیاد بناکر آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ان جماعتوں میں ایم کیوایم پاکستان ،،پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ،،جماعت اسلامی ،پاک سرزمین پارٹی ،مسلم لیگ (ن)،عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر شامل ہیں ۔

ان دنوں کراچی میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہاہے اور شہر میں مختلف مقامات مذکورہ عوامی مسائل پر احتجاج کرکے عوامی کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف نظر آتی ہیں ۔مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی حکمت عملی ہے کہ شہر قائد کے باسیوں کو درپیش بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کیلیے زیادہ سے زیادہ احتجاجی مظاہرے ،ریلیوں اور اجتماعات کا انعقاد کیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات میں کراچی سے زیادہ سے زیادہ قومی وسندھ اسمبلیوں کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی جاسکے ۔

(جاری ہے)

مختلف جماعتیں ان دنوں متحدہ کے رہنماں اور کارکنان کو اپنی جماعتوں میں شامل کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ان عہدیداروں وکارکنوں کے ماضی کے سیاسی تجربے کی روشنی میں ایم کیوایم کے زیراثر علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا جاسکے اور یہاں سے انتخابات میں کامیابی کا حصول ممکن ہوسکے ۔مختلف جماعتوں نے حکمت عملی طے کی ہے کہ کراچی میں آئندہ انتخابات کیلیے متحدہ کی تقسیم سے وجود میں آنے والے گروپس سے مقابلے کیلیے قومی وسندھ اسمبلی کی نشستوں کی سیاسی پوزیشن کے لحاظ سے مقامی سطح پر سیٹ ایڈجسمنٹ یا محدود انتخابی اتحاد بھی قائم کیا جائے گا ۔

اس حکمت عملی کو کامیاب بنانے کیلیے پیپلز پارٹی ،،پی ٹی آئی ،،اے این پی ،متحدہ مجلس عمل ،مجلس وحدت مسلمین ،مسلم لیگ (ن) نے اپنے اپنے طور پر سیاسی رابطوں کا آغاز کردیا ہے ۔سیاسی حلقوں کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں ایم کیوایم پاکستان ،،پیپلز پارٹی ،،جماعت اسلامی ،مسلم لیگ (ن)،،اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کو کراچی کے بنیادی مسائل کے لئے احتجاج اس طرح یاد تو نہیں آیا جس انداز میں آج کل نظر آرہاہے ۔

تمام جماعتوں کو کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ،،پانی کی قلت ،انفراسٹرکچر کی تباہی ،قومی شناختی کارڈ کے اجرا میں مشکلات اور دیگر مسائل نظر آرہے ہیں ۔عام انتخابات قریب آتے ہی ایم کیوایم پاکستان ،،پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ،،جماعت اسلامی ،پاک سرزمین پارٹی ،مسلم لیگ (ن)،عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں نے عوامی رابطوں کے آغاز کیلیے شہر قائد کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنالیا ہے ۔

تمام اہم جماعتوں کی کوشش ہے کہ ان مسائل پر زیادہ سے زیادہ احتجاج کیا جائے تاکہ عوام کی توجہ حاصل کی جاسکے ۔اس لیے رواں ماہ شہر میں اہم جماعتیں احتجاج میں مصروف ہیں ۔۔بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی بھی شامل ہوگئی ہے ۔مختلف جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی ہے کہ ایم کیوایم کے زیراثر علاقوں میں ان کا سیاسی کنٹرول ہو۔

اس لیے پیپلز پارٹی ،،پی ٹی آئی ،،جماعت اسلامی ،پی ایس پی اور دیگر جماعتیں متحدہ پاکستان کے کارکنان کو زیادہ سے زیادہ اپنی پارٹیوں میں شامل کررہی ہیں ۔ان جماعتوں کی کوشش ہے کہ متحدہ کے ان کارکنوں کو زیادہ شامل کیا جائے جو سیاسی وانتخابی تجربے کے حامل ہیں ۔۔ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپس کے علاوہ تمام اہم جماعتوں نے شہر قائد میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اور اس حوالے سے سیاسی دفاتر قائم کیے جارہے ہیں ۔

متحدہ پاکستان میں گروپ بندی (پی آئی بی وبہادرآباد)کے وجود میں آنے کے بعد متحدہ پاکستان کی اپنے سیاسی پوزیشن کے لحاظ سے مضبوط علاقوں میں گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے ۔جس کا سیاسی انتخابی نقصان ان گروپس کو آئندہ الیکشن میں پہنچنے کا خدشہ ہے ۔۔ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار متحدہ کی تقسیم سے وجود میں آنے والے گروپس کو مہاجر اتحاد کے پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم یہ فارمولا کس طرح کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا ۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی عوامی مسائل کو بنیاد بناکر انتخابی مہم کس طرح کا میاب ہوتی ہے اس کا فیصلہ تو عوام اپنے ووٹوں سے کریں گے ۔سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آئندہ الیکشن میں کراچی کا مینڈیٹ تقسیم ہوسکتا ہے اور کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہونا مشکل نظر آتا ہے ۔اس حوالے سے ایم کیوایم پاکستان بہادر آباد گروپ کے رہنما امین الحق نے بتایا کہ ہم اپوزیشن میں ہیں اور ہر حالات میں عوام کے مسائل پر ایم کیوایم نے تمام فورمز پر آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی ان کے حل کوششوں کو جاری رکھیں گے ۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی میں گروپ بندی کے خاتمے کیلیے رابطوں اور کوششوں کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ ماہ سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کریں گے ۔۔ایم کیوایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے رہنما علی رضا عابدی نے کہا کہ متحدہ پاکستان سمیت تمام اہم جماعتوں نے کراچی کے مسائل کے حل کیلیے آواز اٹھانی شروع کردی ہے جو خوش آئند ہے ۔یہ عمل انتخابی مہم کا حصہ بھی ہوسکتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ پاکستان آئندہ ماہ سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرے گی ۔پاک سرزمین پارٹی کے رہنما وسیم آفتاب نے کہا کہ پی ایس پی اب بھی وجود میں آئی ہے ۔۔پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم پاکستان نے کراچی کے مسائل کے حل کیلیے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے ۔پی ایس پی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے اور ہمیں آئندہ انتخابات میں کا میابی حاصل ہوگی ۔

پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ کراچی کے مسائل پر آواز اٹھائی ہے اور آئندہ الیکشن میں کراچی میں تحریک انصاف کو کامیاب حاصل ہوگی ۔انھوں نے کہاکہ کراچی کے مسائل کے ذمے دار پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم ہیں ۔ جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان زاہد عسکری نے بتایا کہ کراچی کے مسائل پر سب سے پہلے جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی ہے ۔

آج سب جماعتیں کراچی کے مسائل پر بات کررہی ہیں ۔ہماری کوشش ہے کہ شہر قائد کے مسائل حل ہوں ۔۔جماعت اسلامی جلد انتخابی مہم کا آغاز کرے گی ۔۔پیپلز پارٹی کراچی کے رہنما اقبال ساند نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کراچی کے مسائل کو حل کیا ہے اور ہم اپنی کارکرگی کی بنیاد پر آئندہ الیکشن میں میں شہر قائد سے کا میابی حاصل کریں گے ۔