علامہ محمد اقبالؒ مسلمانان برصغیر کے ایک عظیم محسن ہیں اپنے دین، ثقافت اور اقدار سے گہری وابستگی کے ذریعے نشاة ثانیہ کی راہ دکھائی‘تحریک انصاف

علامہ محمد اقبال ؒ کی ولولہ انگیزشاعری نے مسلمانانِ ہند کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور انہیں حریت فکر سے آشنا کردیا تھا علامہ محمد اقبالؒ نہ صرف مسلمانانِ ہند بلکہ پورے عالم اسلام کے ایک جلیل القدر مفکر تھے۔ ان کا شمار ان اہلِ فکر و نظر میں ہوتا ہے جن کے افکار کی روشنی سے ہماری آئندہ نسلیں بھی فیض حاصل کریں گی‘رہنمائوں کا تقریب سے خطاب

اتوار اپریل 18:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) تحریک انصاف کے رہنمائوںنے کہاکہ علامہ محمد اقبالؒ مسلمانان برصغیر کے ایک عظیم محسن ہیں، انہوں نے مسلمانوں کو غیر اسلامی نظریات سے مرعوب نہ ہونے اور اپنے دین، ثقافت اور اقدار سے گہری وابستگی کے ذریعے نشاة ثانیہ کی راہ دکھائی۔ ان خیالات کا اظہار حیات و تعلیمات علامہ محمد اقبالؒ کے موضوع پر پاکستان تحریک انصاف لاہور کے زیر اہتمام حکیم الامت، مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے 80ویں یوم وفات کے موضوع پر خصوصی تقریب کے موقع پر جسٹس (ر)ناصرہ جاوید اقبال، سینیٹر چوہدری محمد سرور، ایم این اے شفقت محمود،ابرار الحق، ہارون الرشید،ماہر قانون دان نعیم بخاری اور ولید اقبال نے خطاب کیا ۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے کہاکہ علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی اور انہیں خودی کادرس دیا۔

(جاری ہے)

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو فکرِ اقبالؒ سے روشناس کرایا جائے جس کی بنیاد قرآنی تعلیمات اور اسوة حسنہ پر ہے۔ موجودہ حالات سے نبرد آزما ہونے کے ضمن میں افکارِ اقبالؒ ہماری موثر رہنمائی کرتے ہیں۔

سینیٹر چوہدری محمد سرور نے کہاکہ یہ مملکت خداداد فکرِ اقبالؒ کا ثمر ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نہ صرف مسلمانانِ ہند بلکہ پورے عالم اسلام کے ایک جلیل القدر مفکر تھے۔ ان کا شمار ان اہلِ فکر و نظر میں ہوتا ہے جن کے افکار کی روشنی سے ہماری آئندہ نسلیں بھی فیض حاصل کریں گی۔ علامہ محمد اقبالؒ کے فلسفے کا نچوڑ جہد مسلسل ہے،اسی کو تحریک انصاف آگے لیکر چل رہی ہے۔

ممتاز قانون دان نعیم بخاری نے کہا کہ علامہ محمد اقبال ؒ کی ولولہ انگیزشاعری نے مسلمانانِ ہند کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اور انہیں حریت فکر سے آشنا کردیا تھا۔ وہ محض تصورِ پاکستان ہی کے خالق نہ تھے بلکہ انہوں نے اس تصور کو عملی شکل عطا کرنے کیلئے ایک میر کارواں کی بھی نشاندہی فرمادی تھی۔ علامہ محمد اقبالؒ کے الگ وطن کے تصور کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عملی تعبیر دی۔

علامہ محمد اقبالؒ راست گو شاعر اور دین اسلام کا ان پر غلبہ تھا۔وہ امت مسلمہ کو بے راہ روی کی طرف جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ایم این اے شفقت محمود نے کہاکہ 1940ء میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے ذریعے جس الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا اس کا تصور علامہ اقبالؒ نی1930ء میں پیش کر دیا تھا۔انہوں نے کہا پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

ہارون الرشید اور ابرار الحق نے کہاکہ علامہ محمد اقبالؒ نے نوجوان نسل کو جہد مسلسل کا پیغام دیا۔وہ پرعزم انسان تھے اور انہیں یقین تھا کہ مسلمانان برصغیر کو آزادی کی منزل ضرور ملے گی۔ انہوں نے کہا جمہوری نظام ہی ملک کو آگے لیکر چل سکتا ہے، علامہ محمد اقبالؒ کاکہنا تھا کہ قوم ایسے افراد کو آگے لائے جو ’’نگہ بلند، سخن دلنواز ، جاں پرسوز‘‘ کی صفات رکھتے ہوں۔

علامہ محمد اقبالؒ صحیح معنوں میں آفاقی مفکر اور شاعر ہیں۔ آفاقی شاعر کی باتیں ہر زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒکا پیغام ابدی ہے اور آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر آج امت مسلمہ زوال کا شکار اور پستی کے دور سے گزر رہی ہے۔قوموں کی تاریخ میں عروج و زوال آتے رہتے ہیں ، علامہ محمد اقبالؒ کے دور میں بھی مسلمان غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔

علامہ محمد اقبالؒ نے ان حالات کا جائزہ لیا اور اپنی نظم و نثر میں ملت اسلامیہ کے زوال کے اسباب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ،اور زوال سے ابھرنے کا ایک واضح طریق کار بھی متعین کیا۔ولید اقبال نے اپنے صدارتی خطاب میںکہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کا ہر شعر نوجوانوں کیلئے ہے اور انہوں نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی ہے۔ نئی نسل کو اس بات پر فخر کرنا چاہئے کہ اقبالؒ نے انہیں شاہین کہہ کر پکارا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ پر یقین رکھنے والوں کا ملک ہے ، لیکن بعض لوگ ہم سے یہ اعزاز چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ مٹھی بھر لوگ پاکستان میں انتشار، شر، نسلی امتیاز اور صوبائیت پھیلانا چاہتے ہیں۔مگرہم ان عناصر کی مکروہ سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ولید اقبال نے کہاکہ 80برس قبل علامہ محمد اقبالؒ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مابین ہونیوالی خط وکتابت پڑھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ یہ حقیقت میں باہمی سیاسی مشاورت تھی اور ان دونوں رہنمائوں کے مابین فکری وسیاسی ہم آہنگی تھی۔