پانی کی فراہمی کی ذمہ داری کنٹونمنٹ بورڈ سے واپس لے کر پہلے کی طرح ڈی ایچ اے کے سپرد کی جائے، ڈیفنس اور کلفٹن کے عوام کا مطالبہ

ادارے کے نااہل افسران کی نااہلی کے باعث پورا علاقہ مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، منتخب کونسلرز اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں

اتوار اپریل 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) ڈیفنس اور کلفٹن کے عوام نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں پانی کی فراہمی کی ذمہ داری کنٹونمنٹ بورڈ سے واپس لے کر پہلے کی طرح ڈی ایچ اے کے سپرد کی جائے۔ ادارے کے نااہل افسران کی نااہلی کے باعث پورا علاقہ مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ منتخب کونسلرز اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے اوو رہیڈ برج اور انڈر پاس بنانے کے عمل میں سست روی نے علاقے کے لاکھوں عوام کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے اطراف کی تمام سڑکیں کھودڈالی ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کا گزرنا محال ہوگیا ہے۔ علاقے کے شہری مسائل پر غور کے لئے ڈیفنس کلفٹن بازار ایریا ریذیڈنٹ ایسوسی ایشن (DCBRA)کا ایک اجلاس CBCکے سابق وائس چیئرمین نجیب ولی کی زیرصدارت ہوا جس میں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے علاوہ سی بی سی کے سابق کونسلرز اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

نجیب ولی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنٹونمنٹ ایکٹ 1924کے رولز 116کے تحت سی بی سی کا فرض بنتا ہے کہ وہ علاقے کو پیننے کا صاف پانی،، سینیٹر ی کی سہولیات، سڑکوں اور گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جبکہ سی بی سی اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں واٹر سپلائی لائنوں کی درستگی کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے جا چکے ہیں مگر عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا اور وہ واٹرٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے اور دیگر کاموں پر اپنے پاس سے رقوم خرچ کرنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونے والے کروڑوں کے اخراجات اور بورڈ کے اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔

اور ایسا کرنا کنٹونمنٹ بورڈ کے ایکٹ کے تحت لازم ہے انہوں نے کہا کہ سی بی سی کے زیرکنٹرول علاقے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور منتخب نمائندے کچھ کام نہیں کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر افسر عمران نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے حصے کا پانی غیرقانونی طور پر باہر کے علاقوں میں فروخت کیا جا رہا ہے واٹر سپلائی کا کام ڈی ایچ اے کے سپرد کیا جائے جیسا کہ لاہور ڈی ایچ اے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سن سیٹ بلیوارڈ، گزری انٹرسیکشن، چوہدری خلیق الزمان روڈ پر انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج کی تعمیر کے لئے ڈی ایچ اے کے علاقے میں ایک سال سے سڑکیں کھدی ہوئی ہیں جس سے ڈی ایچ اے کے رہائشی سخت پریشان ہیں راستے بند ہوگئے ہیں سی بی سی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے اور کام کے اعلی معیار اور جلد تکمیل پر زور ڈاے انہوں نے کہا کہ بتایا جائے حکومت سندھ نے اس کام کے بارے میں سی بی سی سے کس حد تک مشاورت اور تعاون کیا ہے میٹنگ کے شرکا نے ایسوسی ایشن کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پر ڈی ایچ اے کے پانی کے کوٹے کو بڑھانے کے لئے زور دیا جائے گا اجلاس میں سی بی سی کے منتخب کونسلرز سے کہا گیا کہ وہ اپنے ووٹرز کے مفاد کے لئے دیانت داری او رمحنت سے کام کریں۔

میٹنگ میں انور حیدری، مسز فرخندہ احمد، عبدالرحمان، کرم خان، ممتاز اعوان نے بھی خطاب کیا ۔ آکر میں فیصلہ ہوا کہ جلد کراچی پریس کلب پر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے تمام مسائل سے قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔