سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے پاکستان کونسل آف سائنس و ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کررہی ہے، کونسل کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ایوارڈ اور تحقیقی کام کرنے والے افراد کو ریسرچ الاؤنس بھی جاری کیا جاتا ہے‘ ڈاکٹر کامران عظیم

اتوار اپریل 18:30

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی (ماجو) کی لائف سائنسز فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر کامران عظیم نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز،انجینئرز، سائینسداں،ماہرین تعلیم اور تحقیقی کام کرنے والے لوگ دنیا بھر میں کسی بھی ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو قومی ترقی و خوشحالی کے لئے تعمیری منصوبے بنانے اور ان کو پا یئیہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کی حوصلہ افزائی کرنا صرف حکومت یا انڈسٹری کا کام نہیںہے بلکہ یہ معاشرہ کے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی عزت افزائی کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شام یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں ماجو کے اساتذہ کو پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی((پی سی ایس ٹی) کے مختلف پروگراموں کے بارے میں بریفنگ دینے کے لئے بلائے جانے والے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ایسوسی ایٹ ڈین،شعبہ جاتی سربراہان،سینئر اساتذہ اور تحقیقی کام کرنے والے طلبہ نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ پی سی ایس ٹی کی یہ ذمہ داری ہے کو وہ حکومت کو قومی سطح پر سائئینس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے مشورے دے۔انہوں نے کہا کہ یہ کونسل ملک میں سائینس و ٹیکنالو جی کی ترقی کے لئے پالیسیاں بنانے،پلاننگ اور نفاذ کے علاوہ پالیسی اسٹڈی کے لئے کام کرتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پی سی ایس ٹی نیشنل کمیشن آف سائنس و ٹیکنالوجی((این سی ایس ٹی) کا سیکریٹیریٹ بھی ہے جس کے سربراہ وزیر آعظم پاکستان ہیں جو ملک میں سائینس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے ضمن میں اہم منصوبوں کی منظوری دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی ایس ڈی تحقیقی کام کے شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کا مظاہرہ کرنے پر ہرسال ایوارڈ دیتا ہے نیز ہر اس شخص کو جوکہ تحقیقی کام کرہا ہو اسے ریسرچ الاونس بھی دیتا ہے۔۔ڈاکٹر کامران عظیم نے بتایا کہ ملک کا ہر ڈاکٹر،،انجینئر،سائنسداں اور ماہر تعلیم اپنا تحقیقی مقالہ پی سی ایس ٹی میں جمع کراسکتا ہے جو تعمیری کام کرنے والے افراد کی ڈائیریکٹری شائیع کرتی ہے جس میں سب سے بہتریں مقالہ لکھنے والے اسکالر کا نام سرفہرست ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماجو کے لئے یہ ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اس ایک اسکالر ڈاکٹر کاشف اسحقٰ کا نام گزشتہ سال کی ڈائیریکٹری میں اول نمبر پر آیا تھا۔انہوں نے بتا یاکہ پی سی ایس ٹی اب تک ملک کے چار ہزار سے زائید پی ایچ ڈی افراد کے کوائف مرتب کرچکی ہے جوکہ ملک کے حکومتی و صنعتی محکموں اور پبلک و پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ماجو کے فیکلٹی ممبران پر زور دیا کہ و ہ بھی اپنے تحقیقی مقالے پی سی ایس ٹی میں بھی جمع کرائیں تاکہ ان کے نام بھی پی ایچ ڈی اسکالرز کی ملک گیر سطح پر شائع ہونے والی ڈائیریکٹری میں شامل کئے جا سکیں۔