لاہور ،جوڈیشل ایکٹویزم جمہوریت کو کمزور کررہا ہے ،پروفیسر ساجد میر

ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جس میں خفیہ ہاتھوں کا شبہ ہوتا ہے، جس میں خفیہ ہاتھوں کا شبہ ہوتا ہے،عدالت عظمیٰ خود کو بنیادی حقوق کے مقدمات تک محدود کرے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہئے ،امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان

اتوار اپریل 21:10

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ جوڈیشل ایکٹویزم جمہوریت کو کمزور کررہا ہے ، ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جس میں خفیہ ہاتھوں کا شبہ ہوتا ہے۔عدالت عظمیٰ خود کو بنیادی حقوق کے مقدمات تک محدود کرے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہئے۔وہ شیخوپورہ روڈ پر تین سو تیرہ فلور اینڈ جنرل ملز کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔

پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ جب تک ریاستی ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہ کر کام نہیں کریں گے اور دوسرے اداروں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں گے تب تک اداروں کے تصادم کا خطرہ موجود رہے گا۔ جہاں تک عدلیہ کے بااختیار ہونے کی بات ہے تو کامیاب جمہوریت کے لیے یہ ضروری چیز ہے لیکن جوڈیشل ایکٹوازم مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

(جاری ہے)

اداروں کا تصادم نہ صرف جمہوریت کے لیے خطرے کا باعث ہو گا بلکہ عدلیہ کی بدنامی کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹوازم جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ غیر سیاسی خفیہ ہاتھ سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے سازشوں میں مصروف ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے بیان نے ان خدشات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ پی ٹی آئی کے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ طالع آزما انتخابات میں مرضی کے نتائج کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ امن وامان کی صورتحال قدرے بہتر ہے مگر اتنی بہتر نہیں کہ سیاستدانوں اور مذہبی راہنمائوں سے سیکورٹی واپس لے لی جائے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکورٹی واپس لینے سے اگر کوئی بڑا حادثہ رونما ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔ میں اپنی سیکورٹی کی بات نہیں کررہا اللہ کے فضل سے ہمیں کسی سے خطرہ نہیں یہی وجہ ہے کہ میرے پاس ایک بھی سیکورٹی اہلکار نہیں اور نہ ہی آج تک حکومت سے مانگا ہے۔

مگر جن پر حملے ہو چکے ہیں اور جن کا نام دہشت گردوں کی ٹارگٹ لسٹ میں موجود ہے ان کی خاطرہ خواہ سیکورٹی یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔تقریب میں مولانا عبدالباسط شیخوپوری، میاں راشد، سیٹھ شبیر حسین، سیٹھ بشیر احمد اور سیٹھ عبدالرشید، حافظ بابر فاروق رحیمی نے بھی شرکت کی۔