اہم سیاسی شخصیات سے سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ سراسر غلط اور ناانصافی پر مبنی ہے،اسفندیارولی خان

اتوار اپریل 21:30

چارسدہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اہم سیاسی شخصیات سے سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ سراسر غلط اور ناانصافی پر مبنی ہے، امن کے قیام کی خاطر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانی دی اور اے این پی کبھی بھی دہشت گردی کے خلاف اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں ایم سی ون اور ایم سی فور کے مشترکہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔۔اسفندیارولی نے کہاکہ صوبے میں گزشتہ پانچ سال تک آنے والی تبدیلی کا پول اس وقت کھل گیا جب چیف جسٹس نے پشاور کا دورہ کیا ، انہوں نے کہا کہ در حقیقت تبدیلی پی ٹی آئی میں آنی چاہئے جس میں نظریاتی کارکنوں کو دیوار سے لگا کر دوسری جماعتوں کے لوگوں کو شامل کر کے آگے لایا جا رہا ہے، سینیٹ الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنا ایمان اور ضمیر بیچنے والوں سے قوم کیا توقع رکھ سکتی ہے، عمران خان نے ووٹ بیچنے والوں کو پارٹی سے نکالا اور خواتین نے قرآن پاک پر حلفیہ اس الزام کی تردید کر دی جس کے بعد الزام لگانے والوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے،انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ عمران خان دوسری جماعتوں کے ممبران کو الزام لگا کر اپنی پارٹی سے کیسے نکال رہے ہیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ سب سے بڑی زیادتی مولانا سمیع الحق کے ساتھ کی گئی جنہیں انکار کے باوجود پی ٹی آئی نے سینیٹ الیکشن میں کھڑا کیا،حقیقت میں تحریک انصاف نے خود اپنے ممبران کو رقم دے کر ووٹ خریدے اور ان ممبران نے اپنا ووٹ دو بار فروخت کیا، پی ٹی آئی کے چار ارکان اسمبلی نے سارا پول کھول دیا ہے اور اب اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ تحریک انصاف کے ارکان سب سے زیادہ بکے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان بچوں کا کھیل جاری رہا دوبار کرپشن کی بنیاد پر حکومت سے نکالی جانے والی کیو ڈبلیو پی سینیٹ الیکشن میں پھر آنکھ مچولی کرتی نظر آئی ، اٹھارویں ترمین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پختونوں کے صوبے کی شناخت اور این ایف سی ایوارڈ اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی اٹھارویں ترمیمم کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اے این پی سڑکوں پر نکلے گی ۔

سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ سی پیک میں خیبرپختونخواکا پوراحق لے کے رہینگے ، فاٹا کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے کہاکہ فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نمائندگی دی جائے اور آئینی ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں بھی فاٹا کا حصہ مقرر کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی یہ مسائل حل نہ کئے گئے تو حالات اتنے زیادہ بگڑ جائیں گے کہ پھر کوئی انہیں کنٹرول نہیں کر سکے گا،انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے اپنی تیاریوں کا آغاز کر دیں اور آنے والی حکومت ایک بار پھر اے این پی کی ہوگی۔