کو ئٹہ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی مغربی بائی پاس کیرانی کے قریب ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت

واقعے میں محمد علی رضائی اور سید زمان علی کی ہلاکت جبکہ سکیورٹی اہلکارسفر علی ہزارہ کے زخمی ہونے کو تسلسل سے رونما ہونے والے واقعات بلوچستان میںآباداقوام و قبائل کے اتحاد و یکجہتی کے خلاف گہری سازش ہے ،بیان

اتوار اپریل 21:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں مغربی بائی پاس کیرانی کے قریب ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں محمد علی رضائی اور سید زمان علی کی ہلاکت جبکہ سکیورٹی اہلکارسفر علی ہزارہ کے زخمی ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تسلسل سے رونما ہونے والے واقعات کو بلوچستان میںآباداقوام و قبائل کے اتحاد و یکجہتی کے خلاف گہری سازش قرار دیا ۔

بیان میں کابل کے علاقے دشت برچی میں ووٹ رجسٹریشن مرکز پر خود کش حملے کی بھی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے واقع کے نتیجے میں درجنوں بیگناہ خواتین،معصوم بچے،ضعیف العمر افراد کی ہلاکت کو ہزارہ قوم کی نسل کشی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں منظم سازش و منصوبہ بندی کے ساتھ ہزارہ قوم کی قتل عام کی جارہی ہیں جس پر قابو پانے اور ہزارہ قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں دونوں حکومتیں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہیں اس طرح کی نسل کشی و قتل عام کی مثال اس سے قبل صرف افغان آمر حکمران عبدالرحمان کے دور میں ملتی ہے جب صرف ہزارہ ہونے کی بنا پر قتل عام کی جاتی رہی ۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ شہر میں سینکڑوں چیک پوسٹیں اور ناکوں کی موجودگی کے باوجود اگرٹارگٹ کلنگ وقتل عام کا سلسلہ بند نہیں ہوتا تو ان چیک پوسٹوں اور ناکوں کی موجودگی کا جواز بھی باقی نہیں رہتاناکہ اور چیک پوسٹ اس لیئے قائم کی گئی تھی کہ ان کی وجہ سے شہریوں کے جان و مال کو تحفظ اور ٹارگٹ کلنگ،،بدامنی،لاقانونیت پھیلانے والے عناصر کے خلاف کاروائی کیا جاتی مگر گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران جس طرح ہزارہ قوم اور مسیحی برادری کو دہشت و بربریت کا شکار بنانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سئے سکیورٹی چیک پوسٹ کی موجودگی کے دوران واقعات کے رونما ہونے پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، اور صوبائی اسمبلی کی موجودہ بدامنی اور دہشتگردی کے واقعات پر خاموشی انتہائی قابل مذمت ہے امن کا قیام اور تمام اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھ کر جواب طلبی اور اداروں کو متحرک کردار ادا کرنے کے حکامات صوبائی حکومت دیتی ہے اس وقت ہزارہ قوم پر نئے سرئے سے کھلے عام گھومنے والے دہشت گرد حملہ آور ہورہے جس کے خلاف نہ حکومت بولنے کی جرات کرتا ہیں نہ ہی قانون نافذ کرنے اور سکیورٹی ادارے کسی قسم کی کاروائی کر رہی ہیں جس سے عوام اور کوئٹہ کے شہری مطمین ہوسکیں۔

بیان میں کیا گیا کہ کوئٹہ اور کابل میں ہزارہ قوم کی نسل کشی ہزارہ قوم کو اتحاد اوریکجہتی کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہیں اب ضروری ہیں کہ ہزارہ قوم کے روشن خیال حلقے،دانشور اور ترقی پسند گروہ اپنے درمیان موجود نمائشی و ذاتی اختلاف پسند و نا پسند کا خاتمہ کر کے قوم کے بہترین مفادات بقا اور تحفظ کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کریں۔