، پاکستان اور خطے کے تقدیر بدلنے والے گوادر کے عوام پینے کے پانی بجلی کے سہولت سے بھی محروم ہے ،مولانا عبدالقادر لونی

جبکہ اس گواد رہی کے نام پر پنجاب ، سندھ دیگر صوبوں میں نیشنل ہائی وے اور کھربوں ڈالروں کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں،جبکہ گوادر میں کچھ نظرآتا نہیں، رہنماء جمعیت علماء اسلام نظریاتی

اتوار اپریل 22:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے سینئر نائب وبلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی ، مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا محمود الحسن قاسمی، مفتی شفع الدین، حاجی داد محمد، مولانا اللہ بخژ، شیر جان صالح، مولانا بخش دشتی نے کہا ہے کہ پاکستان اور خطے کے تقدیر بدلنے والے گوادر کو دہی پسماندہ کے تصویر بنا اور گوادر کے عوام پینے کے پانی بجلی کے سہولت سے بھی محروم ہے جبکہ اس گواد رہی کے نام پر پنجاب ، سندھ دیگر صوبوں میں نیشنل ہائی وے اور کھربوں ڈالروں کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں جبکہ گوادر میں کچھ نظرآتا نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت نظریاتی گوادر کے زیر اہتمام گوادر میں منعقدہ تحفظ نظریات کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا کانفرنس کے صدارت شیر جان صالح نے کی کانفرنس میں عوام نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پشتون بلوچ کے نام پر سیاست کرکے بلوچستان کے عوام کے حقوق کی دعویداروں نے بلوچستان کے سپیک اور دیگر وسائل کو دوسروں کے کو گروی رکھ کر بھیج دیئے اور بلوچستان میں ان کے چار سالہ کارکردگی مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں رہا ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف شہروں پنڈی، لاہور میں سی پیک کے نام پر ہائی وے ، ریلوے ٹریک سمیت کھربوں ڈالروں کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ رہے ہیں کیا گوادرے سے لے کر چمن ژوب نوشکی، قلات، تفتان، خضدار، مستونگ، قلات تک کوئی سپر ہا ئی وے بنا ہے ریلوے ٹرک نہ ہی سی پیک کے حوالے سے تجارتی زونز بنے ہیں اور بلوچستان کے حقوق بلوچستان کے پشتون وبلوچ قوم پرستوں نے بیچ کر اپنے بینک بیلنس بڑھانے اور اب پھر وہ قوم کے غم خوار بن کر قوم کو پھر مختلف نعرون پر ورغلا کر بلوچ پشتون قوم کے پسماندگی کا رونا شروع کر دیں گے انہوں نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام نظریاتی دوغلہ پن اور عوام کو کچھ کہتے حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر کچھ اور بولتے ہیں ہمارا بات ایک اور ہم جو بات آج ملافاضل چوک گوادر میں کہی وہی بات ہم وزیراعظم،، صدر ہائوس میں بھی کہ سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ارباب ظاہر کاسی کے اغواء کے وقت بلوچستان کے تمام پشتون بلوچ قوم وسیاسی جماعتوں کے قائدئن کی موجودگی میں نوازشریف اور گورنر ہائوس میں آل پارٹیز کانفرنس کے دوران کھول کر بر ملا نوازشریف کہا تھا کہ بلوچستان کے حقوق اب لو گوں وفاق کے غضب کئے بلوچستان کو بحیثیت صوبے کے حقوق نہیں دیا گیا ہے اور بلوچستان کر ہر دور میں پسماندہ رکھا گیا اور آج گوادر کے حالات دیکھ کر ہمیں افسوس ہو رہا ہے گوادر میں نہ پینے کی پانی ہے نہ بجلی ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہم اسلامی نظام کے داعی ہے اسلام نظام چاہتے ہیں اسلامی نظام ہی تمام دنیا کے مسائل کے حل کا واحد ذریعہ ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ سے امن وامان کی بحالی کے ساتھ خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔