لاہور ، ’’ووٹ کی شرعی حیثیت اور امید وار کیسا ہونا چاہئے‘‘کے عنوان سیسفیصل آباد ڈویژن میں الیکشن سے قبل سیمینارز منعقد کئے جائیں گے،صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی

اتوار اپریل 22:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مرکزی علماء کونسل کے زیر اہتمام ’’ووٹ کی شرعی حیثیت اور امید وار کیسا ہونا چاہئے‘‘کے عنوان پر فیصل آباد ڈویژن کے ہر حلقہ میں الیکشن سے قبل سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ مرکزی علماء کونسل فیصل آباد کا حلقہ این اے 108میں رانا محمد افضل خان کی حمایت کا اعلان ۔جو امید وارقانون ناموس رسالت ؐ اورقانون ختم نبوت ؐ کے تحفظ اور نفاذ اسلام کیلئے یقین دہانی کروائے گا ایسے امیدواروں کو آئندہ الیکشن میں ووٹ دیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ رانا محمد افضل خان کے اعزاز میں مرکزی علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے بیت قاسمی میں دعوت عصرانہ دیا ۔جس میں وائس چیئرمین صاحبزادہ پیر جی خالد محمود قاسمی،مفتی حفظ الرحمن بنوری ،سیکرٹری اطلاعات حافظ محمد طیب قاسمی، شیخ الحدیث مولانا رب نواز،مولانا یوسف فاروقی، مولانا محمد امجد، حافظ مقبول احمد ،ڈویژنل صدر قاری عصمت اللہ معاویہ،جنرل سیکرٹری مولانا عابد فاروقی،قاری محمد اعظم،مولانا نعیم طلحہ،مولانا ثاقب عزیز، مولانا عامر اشرف،مولانا یاسر علوی،ناظم حفیظ الرحمن ،مولانا عمر فاروق، حافظ محمد قاسم فاروقی ،شیراز کاہلوںودیگر شریک تھے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر خزانہ رانا محمد افضل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن 2018؁ء میں این اے 108سے الیکشن لڑوں گااور ماضی کی طرح پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر عوام کی فلاح وبہبود خصوصاً تعلیم،،صحت اورعلاقہ کی فلاح و بہبود کیلئے کام کروں گا۔ خصوصاً ہمیشہ تحفظ ناموس رسالت ؐ اور ختم نبوت ؐ کا چوکیدار بن کر ہر فورم پر پہریداری کروں گا۔ اس موقع پر مرکزی علماء کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ ووٹ کی شرعی حیثیت پر عام لوگ ایسا معاملہ سمجھتے ہیں جسکا دین سے کوئی تعلق نہیں اور صحیح طریقے سے اپنی ذمہ داری ادانہیں کرتے بلکہ ایسی شخصیات کے حق میں ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں جو اسلام اور نظریہ پاکستان سے بے خبر ہوتی ہیں۔

جس کے بعد میں اثرات سب کو بھگتنے پڑتے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت واضح کی جائے تاکہ ہر ووٹ دینے والا اس کی اہمیت کو سمجھے اور سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کو استعمال کرے اس سلسلہ میں مرکزی علماء کونسل کے زیر اہتمام ملک کے چاروں صوبوں میں اور تمام اضلاع میں اور بالخصوص فیصل آباد ڈویژن کے ہر حلقہ میں ووٹ کی شرعی حیثیت اور امیدوار کیسا ہونا چاہئے اس موضوع پر سیمیناز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

ووٹ کی شرعی اعتبار سے تین حیثیتیں ہیں ،ایک حیثیت شہادت یعنی گواہی کی ہے جس شخص کے حق میں انسان ووٹ ڈالتا ہے وہ درحقیقت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امیدوار دیانت وامانت کے ساتھ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص اس بات کو جانتے ہوئے کہ وہ امیدوار ان اوصاف کا حامل نہیں ہے تو پھر بھی اس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے تو وہ جھوٹی گواہی کا مرتکب ہوگا جو کہ گناہ کبیرہ ہے۔

ووٹ کی دوسری حیثیت سفارش کی ہے یعنی ووٹ دینے والا امیدوار کے حق میں سفارش کرتا ہے کہ یہ امیدوار اس منصب کا اہل ہے۔ ووٹ کی تیسری حیثیت کسی کو اپنا وکیل بنانے کی ہے یعنی ووٹ دینے والا امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اس کی وکالت کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے تمام افراد تک اسکا نفع اور نقصان پہنچتا ہے ۔مرکزی علماء کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ کرپٹ ،بددیانت ،خائن اور نظریہ پاکستان سے دور امیدواروں کو ہر حلقہ میں شکست دی جائے گی ۔اسلام اور نظریہ پاکستان سے محبت کرنے والی شخصیات کو الیکشن 2018؁ء میں ہر حلقہ میں کامیاب کروایا جائے گا۔