اسلا م آباد، ن لیگی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کامطالبات پورے نہ کرنے پر بیوروکریسی کو بلیک میل کرنا شروع

قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا ایجنڈا اپنی مرضی کا رکھنا شروع کردیا،کئی کیسز میں رکی ہوئی گرانٹ مانگی جا رہی ہے، مرضی کے افسران کو اپنی پسند کی پوسٹنگ کے لیے کہا جارہا ہے،زرائع

اتوار اپریل 23:00

اسلا م آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں نے اپنے مطالبات پورے نہ کرنے پر بیوروکریسی کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔زرائع نے بتایا کہ قائمہ کمیٹیوں کے اکثر چیئرمین جن کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے ہے اور اب ان کی حکومت کی مدت ختم ہونے میں ایک ماہ رہ گیا ہے ان چیئرمینوں نے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا ایجنڈا اپنی مرضی کا رکھنا شروع کردیا ہے تاکہ اپنے مطالبات بیورو کریسی سے منوا سکیں۔

کئی کیسز میں رکی ہوئی گرانٹ مانگی جا رہی ہے۔کہیں مرضی کے افسران کو اپنی پسند کی پوسٹنگ کے لیے کہا جارہا ہے اور کہیں بیت المال کا پیسہ اپنے حلقے کے لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے سرکاری افسران پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

ایک ادارے مین تعنیات ہونے والے ایک سینیئر بیوروکریٹ نے انکشاف کیا کہ مجھے ایک قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے درجنوں افراد کی فہرست بھیجی ہے اور ان کو مختلف اداروں میں ڈیلی ویجز یا کنٹیکٹ پر لگانے اور ان کی مالی مدد کے لیے کہا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے ایک طے شدہ طریقہ کار موجود ہے اور الیکشن کمیشن نے اب بھرتیوں پر پابندی بھی لگا دی ہے اور یہ بات جب اس قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے فوری طور پر قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کردیا اور اپنے سٹاف کو حکم دیا کہ مجھے لازمی بلایا جائے کیونکہ میں نے میرٹ اور قواعد سے ہٹ کر کام کرنے سے انکار کردیا تھااور اب اگر انہوں نے اس کمیٹی کے چیئرمین کی خواہش پوری نہ کی تو انھیں کمیٹی میں طلب کیا جائے گا اور پورے ادارے کی ناکامی کا زمہ دار بھی اسے ٹھرا دیا جائے گا اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں اعلی افسران کو بلا کر ان کے ساتھ اسی صورت میں اچھا سلوک ہوتا ہے جب وہ ان کی بات مان لیں ورنہ دوران اجلاس پی دیگر اراکین اور میڈیا کی موجودگی میں ان کی۔

کلاس لی جاتی ہے اور ان کی تقرری پر بھی سوالات اٹھا دئیے جاتے ہیں زرایع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بیورو کریسی کو ایسی صورتحال کا سامنا ان چیئرمینوں کے ہاتھوں کرنا پڑتا ہے جن کا تعلق حکمران جماعت سے ہے 04-18/--118