کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ،وفاق اور سندھ میں خط و کتابت کا سلسلہ جاری

وفاقی وزیر نے وزیر اعلیٰ سندھ کو کراچی واٹر بورڈ کے حوالے سے 32ارب روپے فری ادا کرنے کی سفارش کردی

اتوار اپریل 23:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ کا معاملہ وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری اور گزشتہ روز وفاقی وزیر نے وزیر اعلیٰ سندھ کو کراچی واٹر بورڈ کے ھوالے سے 32ارب روپے فری ادا کرنے کی سفارش کردی ہے تاکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے کے الیکٹرک کے ذمہ اربوں روپے کے واجبات میں سے ادائیگیاں ممکن ہو سکیں جبکہ لود شیڈنگ کی وجہ سے شہر میں گزشتہ ایک ماہ سے پانی کے بحران کی وجہ سے فی ٹینکر قیمت دگنی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اتوار کو وافاقی وزیر برائے پاور ڈویژن نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ہیلے خط کے جواب کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کو دوسرا خط بھی لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی واٹربورڈ پر واجب الادا بقایا جات کی ذمہ داری حکومت سندھ پر ہے کوئی بھی معاہدہ آئینی ترامیم کو منسوخ نہیں کرتا اور حکومت سندھ کراچی واٹر بورڈ پر واجب الادا ادائیگیوں کا مسئلہ حل کرے اور فوری طور پر ادائیگیوں کو ممکن بنائے ، نیپرا وفاقی ادارہ نہیں، یہ قومی ادارہ ہے نیپرا میں سندھ کی نمائندگی بھی شامل ہے، ایک ممبر سندھ کا ہے وفاقی حکومت سندھ کو مکمل حمایت کا یقین دلاتی ہے کے الیکٹرک کو بغیر کسی قانونی معاہدے کے 650 میگا واٹ بجلی دے رہے ہیںاٹھارہویں ترمیم کے بعد کراچی واٹر بورڈ کی ادائیگیوں کا معاملہ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کا خامیازہ عوام بھگت رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سوئی سدرن گیس کمپنی کی 73فیصد مالک ہے جبکہ کے الیکٹک میں اس کے 24فیصد شیرز ہیں لیکن وفاقی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے اس حوالے سے کے الیکڑک حکام کا کہنا ہے کے الیکڑک سو ملین کیوبک فٹ گیا کی کمی کا سامنا ہے جبکہ کے الیکٹرک کو اسی وجہ سے چھ سو میگا واٹ سے زائد بجلی کی کمی کا سامنا ہے اس وقت ڈسکو میں بجلی کی پیداوار اکیس سو میگا واٹ جبکہ ضرورت ستائس سو میگا واٹ سے زائد ہے دوسری جان کراچی میںگرمی کا پارا چڑھتے ہی لوڈ شیڈنگ اور پانی کے بحران نے صنعت کاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کراچی کے صنعت کاروں نے پیر 23 اپریل کو وزیر اعظم کی کراچی آمد پر کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف 27اپریل کو علامتی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے جنرل باڈی اجلاس میں صنعت کاروں نے اس ضمن اہم فیصلے کیے، صنعت کاروں نے پیر کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی کراچی آمد کے موقع پر نہ صرف احتجاج بلکہ دھرنے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے سائٹ ایسوسی ایشن کے حکام کا کہنا تھا کہ شہر کے صنعتی علاقوں میں 23 دنوں سے 8 تا10 گھنٹوں کی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، صنعتی علاقوں میں ایک ماہ سے پانی کی فراہمی معطل ہے گزشتہ ایک ماہ سے پانی کے بحران کی وجہ سے فی ٹینکر قیمت دگنی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے واضح رہے کہ کے الیکٹرک کراچی مین انتہائی مہنگی بجلی فراہم کر رہی ہے جس پر نیپرا نے پہلے ہی کے الیکٹرک کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہوا ہے ۔

عباس شاہد