وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کیلئے 43 ارب64 کروڑ43 لاکھ اور تین ہزار روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز دیدی

اتوار اپریل 23:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کیلئے 43 ارب64 کروڑ43 لاکھ اور تین ہزار روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ وزارت امور کشمیر نے 57ارب34کروڑ8 لاکھ اور 59 ہزار روپے مختص کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔۔بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاق نے وزارت امور کشمیر کے تحت آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 25 ارب 34کروڑ 43 لاکھ اور 3 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں وزارت امور کشمیر کے تحت ترقیاتی منصوبوں کیلئے 18ارب30 کروڑروپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آزاد کشمیر کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل ترقیاتی منصوبوں کیلئے بلاک الوکیشن کی مد میں 22 ارب اور فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل منصوبوں کیلئے 3 ارب34کروڑ 43 لاکھ 3 ہزار روپے مختص کئے ہیں جن میں راٹھوا ہریم برج کیلئے 1 ارب روپے، نوسیری بائی پاس روڈ کیلئے دس کروڑاور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی عمارت کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ گلگت بلتستان کے اے ڈی پی منصوبوں کیلئے بلاک ایلوکیشن کی مد میں 15 ارب اور پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کیلئے 3 ارب تیس کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

(جاری ہے)

ان منصوبوں میں شغر تھنگ کے مقام پر 26 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پراج کٹ کیلئے 20 کروڑ روپے، تھگ چلاس کے مقام پر 4 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے دس کروڑ ، عطا آباد کے مقام پر 32.5 میگا واٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 15 کروڑ روپے ، گلگت شہر کیلئے سینٹری سیورج منصوبہ کیلئے 9 کروڑ روپے ، گلگت کار گاہ روڈ کی مرمت کیلئے 5 کروڑ روپے، غواڑی گان گچھے کے مقام پر 30 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 5کروڑ روپے ، چلاس تا ناران 65 کلومیٹر روڈ کی توسیع کیلئے 5 کروڑ روپے جبکہ گلگت وویمن یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے کیلئے 5 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔۔۔۔راٹھور

متعلقہ عنوان :