خزانے اور اربوں ڈالر کے قرضوں کی بنیاد پر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا، امیر حیدر خان ہوتی

سینیٹ الیکشن میں20ممبران نے ووٹ فروخت کئے ، عمران خان بھی قرآن پاک پر حلف اٹھائیں کہ انہوں نے ووٹ فروخت نہیں کیا،صوبائی صدرعوامی نیشنل پارٹی

اتوار اپریل 23:20

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی ایمانداری کے پیمانے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں20ممبران نے ووٹ فروخت کئے ، عمران خان بھی قرآن پاک پر حلف اٹھائیں کہ انہوں نے ووٹ فروخت نہیں کیا اور پرویز خٹک سمیت وزراء نے کرپشن نہیں کی ،بیران ملک سے آنے والے چندوں میں غبن نہیں کیا اور حلف لیں کہ پنجاب میں چوہدری سرور نے ممبران کے ضمیروں کا سودا نہیں کیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے شانگلہ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ ، وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے ،حکومت کے خاتمے کے بعد صوبے میں ایک بار پھر باچا خان کے پیروکاروں کی حکومت ہو گی ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے سے انکار حکومت کا ٹوپی ڈرامہ ہے ،در اصل بجٹ میں ظاہر کرنے کیلئے جن اعداد وشمار کی ضرورت ہے وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں ، خالی خزانے اور اربوں ڈالر کے قرضوں کی بنیاد پر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا ، انہوں نے کہا کہ ملک میں پختونوں کی تقسیم کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں لہٰذا آپس میں اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں کیونکہ اس وقت اختلافات اور نا اتفاقی کی کوئی گنجائش نہیں تاہم ہر قسم کی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا پول کھل گیا ہے خزانہ خالی ہو چکا ہے اور صوبہ مالی بد انتظامی کا شکار ہے ،،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملتان میٹرو میں کرپشن کا واویلا کرنے والے بتائیں پشاور کو کھنڈرات میں کیوںتبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ میٹرو کا کہیں نام و نشان تک نہیں شہری عذاب میں مبتلا ہیں لیکن حکمران اپنی کمیشن اور کرپشن کے چکر میں پڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاور کے شہری350ڈیم شہر کی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگر کرپشن ختم کی ہوتی تو آج نیب ان کے خلاف ملم جبہ اراضی سکینڈل، بلین سونامی ٹری اور دیگر منصوبوں میں تحقیقات کیوں کر رہا ہی اپنے احتساب کمیشن کو تالے لگے ہوئے ہیں ،،سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے ہی ملک میں پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے پاکستان ہم سب کا ملک ہے اگر ہم پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کا حق تسلیم کرتے ہیں تو پھر پختونوں کے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں،، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا لاہور سے ملتان اور کراچی تک موٹر ویز بن سکتی ہیں تو ہمارے صوبے میں پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کیوں تعمیر نہیں ہو سکتی ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کی جا رہی ہے جس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں موجود سستی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع استعمال نہیں کئے جا رہے، صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے،انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا بڑا کچکول نہیں گھمایا جتنا موجودہ حکومت نے گھمایا ہے اور صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر اتنا قرضہ لیا ہے جو آنے والی کو حکومت کو چکانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہاقتدار میں آنے کے بعدپولیس کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے گا اور خزانے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے ہر ممکن کوشیں کریں گے جبکہ تعلیم کے حوالے سے مزید انقلابی اقدامات کئے جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سال کے دوران ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائی جائے گی ،انہوں نے کہا کہ پختون پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں اور آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کریں تو ان کے اور صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی یقینی بنا سکتی ہے۔