کابل میں انتخابی مرکز پر خودکش حملہ،12 افراد ہلاک،53زخمی ،طالبان کا اظہا لاتعلقی

خود کش بمبار نے ووٹر رجسٹریشن مرکز کے اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑالیا،بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ صوبہ بلخ میں طالبان کے ساتھ جھڑپ میں ضلعی پولیس کے سربراہ ہلاک

اتوار اپریل 23:20

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ووٹر رجسٹریشن دفتر کے قریب خود کش دھماکے میں 12افراد ہلاک اور 53 زخمی ہو گئے ،طالبا ن نے حملے سے اظہا ر لاتعلقی کردیا ۔اتوار کو افغان میڈیا کے مطابق کابل کے علاقے پولیس ڈسٹرکٹ خود کش بمبار نے ووٹر رجسٹریشن مرکز کے اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 4 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع نے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔دشتِ برخی کے علاقے میں زیادہ تر شیعہ ہزارہ مسلمان برادری کے لوگ آباد ہیں جو اکثر دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ طالبا ن نے حملے سے اظہا ر لاتعلقی کیا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ حملہ داعش نے کیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے صوبہ بلخ کے ضلع چہار بولاک میں طالبان جنگجووں کے ساتھ گزشتہ روز ہونے والی جھڑپ میں شدید زخمی ہونے والے ضلعی پولیس کے سربراہ محمد حلیم کھنجر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مقامی اسپتال میں دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونے والے پولیس افسر کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹر میں ادا کی جائے گی۔واضح رہے کہ رواں سال افغانستان میں 5 بڑے خودکش دھماکوں میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور207 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ان خودکش حملوں میں فوجی اڈوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان تمام ہی دھماکوں کی ذمہ داری انتہا پسند مذہبی جماعتوں نے قبول کی تھی۔ دوسری جانب افغان اور اتحادی فوجوں نے رواں سال افغانستان کے مختلف صوبوں میں کارروائی کرتے ہوئے 5 سپریم طالبان کمانڈرز سمیت 102 جنگجووں کو مارنے کا دعوی بھی کیا ہے۔