عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ایمان کی اساس ہے‘آزاد کشمیر کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے درج کرنے کے بعد اسمبلی سے منظورشدہ 6فروری 2018کی ترمیم کی روشنی میں ضروری قانون سازی کی جائے

جنرل سیکرٹری جے یو آئی مولانا قاضی محمود الحسن کا مظفراباد میں علماء کے اجلاس سے خطاب

اتوار اپریل 23:20

مظفراباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ایمان کی اساس ہے۔آزاد کشمیر کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے درج کرنے کے بعد اسمبلی سے منظورشدہ چھ فروری 2018کی ترمیم کی روشنی میں ضروری قانون سازی کی جائے۔قادیانی اسلام اور پاکستان کے کھلے دشمن ہیں۔ قبلہ اول بیت المقدس پر امریکی موقف شرمناک ہے۔

اطاعت رسول ؐ میں ہی زندگی کی کامیابی ہے۔سیرت طیبہ کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہارجنرل سیکرٹری جے یو آئی مولانا قاضی محمود الحسن نے مظفراباد میں علماء کے اجلاس سے خطاب میں کیا ۔سواد اعظم اہلسنت والجماعت کے جنرل سیکرٹری مولانا قاضی منظور الحسن،مرکزی ناظم جے یو آئی مولانا عبد المالک ایڈوکیٹ ، مولانا محمد طیب ،سمیت علماہ کرام نے خطاب کیا ۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا آزاد ریاست میں فرقہ ورانہ سرگرمیاں تحریک آزادی کے لیے انتہائی نقصاندہ ہیں ۔دینی مدارس خوانگی کی شرح میں گراں قدر اضافہ میں مصروف ہیں ۔قرآن کریم ناظرہ اور سیرت النبی کو کو لازمی مضمون کو طوپر نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ گائوں گائوں گلی گلی مجالس توبہ و استغفا ر کا اہتمام کیا جاے ۔تحریک آزادی کشمیر کے خلاف بھارتی مہم کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی ۔

افغانی،،بھارتی وایرانی دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ملک کو اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔حکومت پاکستان بھات کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔ اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے کے لیے کردار ادا کرے۔انھوں نے کہا ریاست جموں کشمیر کی ثقافت ا سلامی تعلیمات کے تابع ہے ۔انہوں نے کہا عقیدہ ختم نبوت وناموس رسالت ایمان کی اساس ہے ۔

جس کے لیے مسلمان ہر طرح کی قربانیاں دے سکتے ہیں ۔انہوں نے آزاد کشمیر کے آئین میں عقیدہ ختم نبوت وناموس سالت کے حوالہ سے منظور شدہ قراردادوں کی روشنی میں ترامیم کرنے اور پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے بھی عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا ۔انھوں نے آزاد کشمیر میں مثالی فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو ثبوتاز کرنے کے لیے بعض حکومتی آفیسران کی فرقہ ورانہ سرگر میوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔

انھون نے کہا مدارس قران و سنت کے داعی اور سیرت الرسول و سیرہ اصحاب الرسول کی روشنی میںپر امن ذرائع سے اشاعت دین کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا دینی مدارس دنیا بھر میں امن و سلامتی ،اتحادو یکجہتی کے داعی ہیں ۔جس کا واضع ثبوت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے پر امن اور شفاف امتحانات ہیں ،جہاں ہر قسم کی رنگ و نسل اور علاقائی تفریق کے بغیر ایک ہی چھت تلے مختلف صوبوں اور علاقوں کے طلبہ پرامن طریقے سے اپنے نصب العین کے لیے کوشاں نظر آئے ۔