میرپور کے لوگوں کی قربانیوں کے صلہ میں انہیں سستی بجلی کے علاوہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے‘شہریوں کو گیس کی سہولت ، سڑکوں کی فراہمی ، تعلیمی ضروریات صحت کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں

مرکزی انجمن تاجراں آزاد کشمیر کے سنیئر نائب صدروصدر مرکزی انجمن تاجراں میرپور سہیل شجاع مجاہدکی بات چیت

اتوار اپریل 23:20

میرپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مرکزی انجمن تاجراں آزاد کشمیر کے سنیئر نائب صدروصدر مرکزی انجمن تاجراں میرپور سہیل شجاع مجاہدنے کہا ہے کہ میرپور کے لوگوں کی قربانیوں کے صلہ میں انہیں سستی بجلی کے علاوہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور شہریوں کو گیس کی سہولت ، سڑکوں کی فراہمی ، تعلیمی ضروریات صحت کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں ‘لازوال قربانیوں کی بدولت میرپور کے شہریوں کو بجلی کی لوڈشیدنگ ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے میرپور کے لوگوں نے پاکستان کی ترقی وخوشحالی سر سبز وشاداب کے لیے اپنے ابائواجداد کی قبروں کو دو مرتبہ پانی کی نذر کر دیا اس کے بدلہ میں میرپور کے لوگوں کو بجلی کی بے تحاشہ لوڈشیڈنگ ، پانی ، گیس ، کے علاوہ دیگر ضروریات زندگی سے محروم کردیاارباب اختیار کو چاہیے کے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا مرکزی انجمن تاجراں آزاد کشمیر کے سنیئر نائب صدروصدر مرکزی انجمن تاجراں میرپور سہیل شجاع مجاہدنے کہاکہ میرپور کو مسائلستان بنادیا گیا منی لندن اور تارکین وطن کہلوانے والے شہر کا حلیہ بھگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے حکمرانوں نے اپنے مفادات کی خاطر ہر دور میں اہلیان میرپور اور تاجروں کا معاشی قتل عام کیا ہے شہر میں پانی ،،بجلی ،،گیس اور دیگر بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں مگر مقام افسوس ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ٹھس سے مس نہیں ہورہے ہیں میرپور کے شہری اس وقت منگلا ڈیم ہونے کے باجوود پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں میرپور کے اکثر سیکٹروں میں پانی ناپید ہے شہری ٹینکر مافیا کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں مگر متعلقہ ادارے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں جو ہمارے ساتھ سراسر نا انصافی اور ظلم ہے مرکزی انجمن تاجراں آزاد کشمیر کے سنیئر نائب صدروصدر مرکزی انجمن تاجراں میرپور سہیل شجاع مجاہدنے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اہلیان میرپور کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے تا کہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں اگر حکومت آزادکشمیر اور متعلقہ اداروں نے مسائل حل نہ کیے تو پھر ہم اپنا حق لینے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کرینگے ۔