مقبوضہ کشمیر‘ کمسن آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے خلاف لال چوک اور نوہٹہ میں تاجروں کا احتجاج

ْسرینگر کے علاقے مائسمہ میں لوگوں نے موم بتیاں جلا کر آصفہ کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیا

اتوار اپریل 23:20

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں ضلع کٹھوعہ میں کمسن بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے خلاف لال چوک میں تاجروں نے ایک گھنٹے تک علامتی ہڑتال کی اورپرامن احتجاجی دھرنا دیا جبکہ مائسمہ میں لوگوں نے واقعے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق لال چوک ، ریذیڈنسی روڑ، پولوویو، لیمبرٹ لین، بنڈ اور ریگل چوک کے دکانداروں نے ایک گھنٹے تک تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں۔

ریگل چوک ٹریڈرس ایسوسی ایشن سے وابستہ تاجروں کی ایک بڑی تعداد نے 3سے 4بجے تک ایک پرامن احتجاجی دھرنادیا۔انہوں نے کٹھوعہ معاملے کی تحقیقات جلد سے جلد مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے پریس کالونی تک مارچ کیا اور واقعے میں ملوث عناصر کو کڑی سزاد دینے کا مطالبہ کیا۔

(جاری ہے)

احتجاج کرنے والے تاجروں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر ننھی پری کے حق میں نعرے درج تھے۔

ریگل چوک ٹریڈرس ایسو سی ایشن کے صدر فرحان نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ ننھی پری کو انصاف فراہم کیا جائے اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ادھر سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں بھی تاجروں نے کٹھوعہ واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ مائسمہ میں لوگوں نے شام کے وقت موم بتیاں جلا کر کٹھوعہ کی ننھی پری کے اہلخانہ سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔