محمود احمدی نژاد کی ایک بار پھر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر کڑی تنقید

ملک میں حقیقی اصلاحات کیلئے خامنہ ای کے پاس آخری موقع ہے، اس سے پہلے کے آنے والا طوفان نظام کو بہا لے جائے حکومت کو اپنا قبلہ درست کرناہوگا،سابق ایرانی صد ر کا انٹرویو

اتوار اپریل 23:20

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بار پھر ملک کے سپریم لیڈر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں حقیقی اصلاحات شروع کرنیکیلئے خامنہ ای کے پاس آخری موقع ہے، اس سے پہلے کے آنے والا طوفان نظام کو بہا لے جائے حکومت کو اپنا قبلہ درست کرناہوگا۔

ان کا اشارہ متوقع عوامی غیض وغضب کی جانب تھا۔فارسی جریدہ بہارجاودانہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق صدر احمدی نژاد نے مرشد اعلی پر زور دیا کہ وہ شفافیت کامظاہرہ کریں، اپنے کام کی نوعیت اور دیگر عہدیداروں کی ذمہ داریوں اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے قوم کو آگاہ کریں۔ حکومتی عہدیداروں کو اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں احمدی نژاد نے کہا کہ انہوں نے ملک میں اصلاحات کے لیے سپریم لیڈر کے سامنے کئی تجاویز پیش کیں۔ ان کے پاس ملک اور نظام کو بچانے کا آخری موقع ہے۔۔احمدی نژاد نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ ماہ سپریم لیڈر کو دو مکتوب بھیجے جن میں انہیں نظام کو بچانے کے لیے مفید تجاویز اور مشورے دیے گئے۔ ان تجاویز میں ملک میں قبل از وقت پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

اس کے علاوہ عوامی احتجاج کے دوران گرفتار تمام شہریوں کی غیر مشروط رہائی، موجودہ جوڈیشل کونسل کے چیئرمین کی برطرفی اور دیگر مطالبات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کا سربراہ اور اس کے بھائی قومی املاک کی لوٹ مار اور کھلے عام بدعنوانی میں ملوث ہیں انہیں ریاست کے اعلی عہدوں پر فائز رہنے کا کوئی حق نہیں۔خامنہ ای کو لکھے مکتوبات کے بارے میں احمدی نژاد نے کہا کہ مجھے زندگی میں کبھی غلط بیان اور جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی مگر یہاں صرف ایک چیز سب سے اہم ہے اور مجھے بھی اس بارے میں بات کرنا ہے۔ جب آپ ہرطرف لوگوں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ عدلیہ کرپٹ ہے تو میں بھی عدلیہ کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کرتا ہوں۔