چین ، کافور کے درختوں سے نوٹ گرنے لگے

کائونٹی کے لوگ ہر روز درخت سے گرنے والے نوٹ جمع کر نے کیلئے یہاں آتے ہیں ہی فینگ گائوں میںکافور کے درختوں کے پتے گائوں والوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے

اتوار اپریل 23:20

چینگ ڈو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) شمال مغربی چین کے صوبے سیچوان کی ایک کائونٹی ژی بن کے درختوں سے نوٹ گرنے لگے اور یہ نوٹ جمع کرنے کیلئے کائونٹی کے رہائشی روزانہ اس علاقے میں آتے ہیں اور درختوں سے گرے ہوئے نوٹ جمع کر کے لے جاتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق ژی بن کائونٹی میں تین ہیکٹر رقبے پر ہی فینگ گائوں کے فان ڈی چینگ نے کافور کے درخت لگا رکھے ہیں جن سے روزانہ ہزاروں پتے گرتے ہیں ، یہ پتے چننے کیلئے فان ڈی چینگ نے کئی مزدور حاصل کر رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ یہ پتے چن کر مارکیٹ میں فروخت کردیتا ہے ، ان پتوں کی فروخت سے گزشتہ سال اس نے 16ہزار امریکی ڈالر (ایک لاکھ یوآن)حاصل کئے تھے جبکہ اوسطاً ہر مزدور کو بھی 14ہزار یوآن کی آمدنی ہوئی جبکہ گائوں کو ان گرنے والے نوٹوں سے ایک کروڑ یوآن سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوئی ۔

(جاری ہے)

یانگ جنگ وین اپنا علاقہ ترک کر کے اس علاقے میں آیا تھا اور اس نے اس طرح مزدوری کر کے 70ہزار یوآن سے ایک گھر بھی خرید لیا ۔ اب وہ اور اس کی بیوی کافور کے ان گرنے والے نوٹوں سے دو لاکھ یوآن کما رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ کافور کے پتوں سے تیل تیار کیا جاتا ہے جو سردرد ،چہرے کے دانوں ،ذہنی پریشانی ، پٹھوں کی مضبوطی اور درد کیلئے مفید ہوتا ہے ۔یہاں کافور کا تیل 120یوآن فی کلو کے حساب سے دستیاب ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوان :