وکلاء کا آئے روزعدالتوں سے بائیکاٹ غریب سائلین کی حق تلفی کے مترادف ہے ،سمندرخان کاسی ایڈووکیٹ

اتوار اپریل 23:21

کچلاک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) قومی جسٹس پارٹی کے مرکزی چیئرمین اورکوئٹہ بارکے بانی ملک سمندرخان کاسی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عدالیہ میں باراوربینچ کے درمیان سینئراورجونیئرکے تعین اورپسندوناپسند کے خاتمے کے بغیرتعلقات بہتری کے بجائے بگڑتے جائیں گے ۔ وہ اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ عدلیہ میں ججزاورلاآفیسر کی تعیناتی میرٹ کے برعکس ہورہی ہیں ،جس سے نہ صر ف سینئر ،قابل ،ایمانداراورحقیقت پسند وکلاء کی حق تلفی ہورہی ہیں بلکہ باراوربینچ کے درمیان بھی فاصلے بڑھنے کا سبب بن رہی ہے اورسینئروکلاء کے حقوق بھی سلب ہورہے ہیں،یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اورجسٹس سپریم کورٹ قاضی فائزعیسٰی جیسے قابل اورایماندارججزکی قدرنہیں کی جاتی ۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہاکہ جوڈیشری پربھی مرکزی اورصوبائی حکومتوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ اثراندازہورہی ہے ،وکلاء کا آئے روزعدالتوں سے بائیکاٹ سے غریب اوردوردرازعلاقوں سے آئے سائلین کی حق تلفی کے مترادف ہے ،وکلاء کو چاہیے کہ عدالتی اوقات کے بعدیوم سیاہ مناکریا پریس کلبزاوربارزکے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے ،ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک پروگریسو اورترقی پسند سیاسی جماعتوں اورقوم پرستوں کو ملکی حالات کے حوالے سے اعتمادمیں لے کر انھیں آگے نہیں لایا جاتاتب تک ملکی حالات میں بہتری اورمعاشی ترقی کی توقع رکھنا دیوانے کے خواب کے مترادف ہیں ،یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اسٹبلشمنٹ ایسے سیاسی رہنمائوں اورعوامی نمائندوں کی راہ میں روکاوٹیں ڈال رہی ہیں جو ملک کی خارجہ اورداخلہ پالیسی کو درست سمت لاکر ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کا سبب بنے بلکہ ہمیشہ چاپلوسی کی پالیسی پر گامزن سیاسی گماشتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہیں ،جس سے ملک میں حالات میں بہتری سے بجائے بگاڑآررہی ہے،نااہل حکمرانوں کی غلط پالیسوں کی وجہ سے ملک آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کا ہاتھوں گروہی رکھ دی گئی ہے ۔