دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر موجود لوگوں سے سیکورٹی لینا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے، اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف بھر پور جنگ لڑی ہے اور آج بھی اے این پی دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر ہے ،اے این پی کے کسی کارکن کو بھی نقصان پہنچا تو چیف جسٹس کے خلاف براہ راست ایف آئی آر درج کرینگے ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے خیبر پختونخو ا میں تبدیلی کے دعوئوں کی قلعی کھول کر کپتان کی اصلیت پوری قوم کود کھا دی، اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چاڑ کرنے والوں کے گریبان پر میرا ہاتھ ہو گا، پی ٹی آئی کے نکالے گئے خواتین ممبران کا قرآن پاک پر خلف اٹھا کر اپنی بے گناہی کا اظہار کپتان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ سینٹ چیئرمین کے انتخابات میں سراج الحق کا بیان ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے

اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کا کنونشن سے خطاب

اتوار اپریل 23:21

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر موجود لوگوں سے سیکورٹی لینا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف بھر پور جنگ لڑی ہے اور آج بھی اے این پی دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر ہے۔۔اے این پی کے کسی کارکن کو بھی نقصان پہنچا تو چیف جسٹس کے خلاف براہ راست ایف آئی آر درج کرینگے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے خیبر پختونخو ا میں تبدیلی کے دعو?ں کی قلعی کھول کر کپتان کی اصلیت پوری قوم کود کھا دی۔ اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چاڑ کرنے والوں کے گریبان پر میرا ہاتھ ہو گا۔ پی ٹی آئی کے نکالے گئے خواتین ممبران کا قرآن پاک پر خلف اٹھا کر اپنی بے گناہی کا اظہار کپتان کے منہ پر طمانچہ ہے۔

(جاری ہے)

سینٹ چیئرمین کے انتخابات میں سراج الحق کا بیان ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔

وہ قاضی خیل میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ اوردیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کپتان کی سیاست میںآنے سے شائستگی ختم ہو چکی ہے۔ کپتان نے گالی گلوچ کی سیاست کو دوام دیکر سیاست سے سنجیدگی ختم کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی پر تنقید کر تے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دونوں رہنمائ فاٹا انضمام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان ایک ٹیلی فون کال پر فاٹا انضمام کا بل رکوا سکتے ہیں مگر نفاذ اسلام کیلئے عملی کام نہیں کرتے۔ ایم ایم اے کی بحالی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ جماعت اسلامی اور جے یوآئی کی نظریں اسلام آباد پر لگی ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی صوبائی حکومت کی اتحادی ہو کر وفاقی حکومت اور جے یوآئی وفاقی حکومت کا حصہ ہو کر صوبائی حکومت پر تنقید کر رہی ہے مگر دونوں میں سے کوئی حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں۔

اسفندیار ولی خان نے عمران خان اور دیگر سیاسی قائدین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ خلف بر قرآن تمام سیاسی قائدین ٹی وی پر بیٹھ کر قوم کو بتائیں کہ کس نے کتنی قومی دولت لوٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی پر اپنے ارکان اور وزرائ کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں مگر عمران خان کو کچھ نظر نہیں آرہا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ فاٹا میں بے چینی ہے فاٹا کے مسائل پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

عام انتخابات سے پہلے فاٹا انضمام اور صوبائی اسمبلی میں فاٹا کی نمائندگی کے بغیر فاٹا کے عوام کی محرومیوں کا آزالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپریشن کے نتیجے میں فاٹا میں جو نقصانات ہوئے ہیں حکومت نے آزالے کیلئے کوئی سنجیدہ کو شش نہیں کی جس کی وجہ سے فاٹا کے عوام میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ اسفندیار ولی خان نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کو اگر کسی نے چھیڑا تو حکمرانوں کو اس کی بھاری قیمت چکانے پڑیگی۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ انتخابات میں اے این پی کے مینڈیٹ کو چوری کیا مگر اس بار بلے سمیت تمام سیاسی مخالفین کو عبرتناک شکست سے دوچار کرینگے۔۔عمران خان پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والوں کی بجائے دوسرے پارٹیوں سے لوگوں کو شامل کرکے ٹکٹ دے رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر موجود لوگوں سے سیکورٹی لینا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف بھر پور جنگ لڑی ہے اور آج بھی اے این پی دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر ہے۔

اے این پی کے کسی کارکن کو بھی نقصان پہنچا تو چیف جسٹس کے خلاف براہ راست ایف آئی آر درج کرینگے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک غریب اور پسمانہ صوبہ جس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ پی ٹی آئی کے نکالے گئے خواتین ممبران کا قرآن پاک پر خلف اٹھا کر اپنی بے گناہی کا اظہار کپتان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ سینٹ چیئرمین کے انتخابات میں سراج الحق کا بیان ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔۔عمران خان بتائے کہ سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے والوں کو سزا دی مگر ووٹ خریدنے والے چوہدری سرور کے خلاف کب کاروائی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک میں پختون بلٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیاگیا ہے مگر آج کا یہ سی پیک پاک چائنہ کوریڈور نہیں بلکہ پنجاب چائنہ کوریڈور ہے۔