پروٹوکول اور سیکیورٹی میں فرق ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی استعمال کرتا ہے تو اس سے سیکیورٹی واپس لے لینی چاہئے ، ضرورت پڑنے پر اگر سیکیورٹی ڈبل کرنا پڑے تو کرنی چاہیے، پرائیویٹ سیکیورٹی اس وقت تک درست انداز میں کام نہیں کرسکتی جب تک اس کا باقاعدہ اجازت نہ ہو،، انتظامیہ سے نالائقی ہوئی ہے کہ انہوں نے کئی جگہوں پر سیکیورٹی فراہم کی اور اس پر کاغذی کارروائی نہیں کی ، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ضروری ہے کہ جن شخصیات کی جان کو خطرہ لاحق ہے ان کو سیکیورٹی فراہم کی جائے چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو،ہمارا اگلے الیکشن م کی بنیاد یہ ہوگی کہ صرف اقتدار نہیں چاہیے اختیار بھی چاہیے،وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اتوار اپریل 23:21

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پروٹوکول اور سیکیورٹی میں فرق ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی استعمال کرتا ہے تو اس سے سیکیورٹی واپس لے لینی چاہئے ، ضرورت پڑنے پر اگر سیکیورٹی ڈبل کرنا پڑے تو کرنی چاہیے، پرائیویٹ سیکیورٹی اس وقت تک درست انداز میں کام نہیں کرسکتی جب تک اس کا باقاعدہ اجازت نہ ہو،، انتظامیہ سے نالائقی ہوئی ہے کہ انہوں نے کئی جگہوں پر سیکیورٹی فراہم کی اور اس پر کاغذی کارروائی نہیں کی ، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ضروری ہے کہ جن شخصیات کی جان کو خطرہ لاحق ہے ان کو سیکیورٹی فراہم کی جائے چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو،ہمارا اگلے الیکشن م کی بنیاد یہ ہوگی کہ صرف اقتدار نہیں چاہیے اختیار بھی چاہیے۔

(جاری ہے)

اتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بہت سے لوگ سیکیورٹی کے اہل ہوتے ہیں اس کیلئے طریقہ کار درج ہے ، حکومت اور اپوزیشن ایڈمنسٹریشن سیکیورٹی فراہمی کا فیصلہ کرتی ہے ، اس کے علاوہ کسی شخصیت فیصلہ کیا جاتا ہے ، پروٹوکول اور سیکیورٹی میں فرق ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی استعمال کرتا ہے تو اس سے سیکیورٹی واپس لینی چاہئے، ضرورت پڑنے پر اگر سیکیورٹی ڈبل کرنا پڑے تو کرنی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی اپنا مؤقف درست انداز میں عدالت میں نہیں کرتی ، یہ عدالت کے احکامات پر اندھوں کی طرح عمل درآمد کرتے ہیں ، پولیس کا کام ہے کہ جہاں بھی سیکیورٹی کی ضرورت ہو وہاں حفاظتی اقدامات کرے اور سیکیورٹی فراہم کرے ، یہ پولیس کے دو بنیادی کام ہیں ۔ اگر کسی شخصیت کو خطرہ لاحق ہے اور اس کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی تو یہ پولیس اور ایجنسیز اپنا فرض پورا نہیں کر رہے ، عدالتی احکامات کے بعد پولیس نے اور ایڈمنسٹریشن نے بلاوجہ نمبر بنانے کیلئے لوگوں سے سیکیورٹی واپس لی ہے ، اس معاملے کو دوبارہ ریویوکرنا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکیورٹی اس وقت تک درست انداز میں کام نہیں کرسکتی جب تک اس کا باقاعدہ اجازت نہ ہو، پرائیویٹ سیکیورٹی سے کام نہیں چلایا جا سکتا، ہم اپنا مؤقف اچھی طرح سامنے ہی نہیں رکھتے ، انتظامیہ سے نالائقی ہوئی ہے ، کئی جگہوں پر انہوں نے سیکیورٹی فراہم کی اور اس پر کاغذی کارروائی نہیں کی ، اگر وہ تفصیلات درج کریں تو اس کے بعد فراہم کردہ سیکیورٹی غیر مجاز نہیں ہوگی ۔

میں نے سینٹ میں اعتراض اٹھایا تھا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ضروری ہے کہ جن شخصیات کی جان کو خطرہ ہے ان کو سیکیورٹی فراہم کی جائے چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، شاباش سے زیادہ ضروری چیز ذمہ داری پوری کرنا ہے ، ایگزیکٹو کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہوگا اور یہ بات بتانا ہوگی کہ یہ کام ہمارا ہے ، یہ بات شرمندگی کا باعث ہے کہ یہ پارلیمنٹ میونسپل کارپوریشن بن چکی ہے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ہمارا اگلے الیکشن م کی بنیاد یہ ہوگی کہ صرف اقتدار نہیں چاہیے اختیار بھی چاہیے ۔