جرمنی، رشوت لے کر1200 تارکین وطن کوپناہ دینے والی خاتون عہدیدار کے خلاف تفتیش شروع

پیر اپریل 10:50

برلن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) جرمن حکام نے دفتر برائے ترک وطن و مہاجرین (بی اے ایم ایف) کی ایک اعلیٰ اہلکار کے خلاف تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس نے مبینہ طور پر رقم اور تحائف وصول کر کے بارہ سو سے زائد تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور کی تھیں۔۔جرمن شہر اور وفاقی ریاست بریمن کے دفتر استغاثہ کی ترجمان کلاؤڈیا کیوک نے فرانسیسی نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ بی اے ایم ایف کے ایک سینیئر اہلکار کے خلاف ملکی سیاسی پناہ کی نظام کی منظم خلاف ورزی اور بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹوں کے مطابق جرمن سیاسی پناہ کے نظام میں مبینہ کرپشن کے اس معاملے میں رشوت اور تحائف کے بدلے 1200سے زائد تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تفتیشی اہلکار یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ کس حد تک رشوت یا تحائف وصول کیے گئے۔مبینہ کرپشن اور بدعنوانی کے جرائم سے متعلق یہ تفتیش بی اے ایم ایف کی جس خاتون اہلکار کے خلاف شروع کی گئی ہیں وہ بریمن میں اس ادارے کے علاقائی دفتر کی ڈائریکٹر ہیں۔ دفتر استغاثہ کے مطابق اس کیس میں خاتون ڈائریکٹر کے علاوہ تین وکلا،، ایک مترجم اور ایک ایجنٹ کے خلاف بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :