ایسی صورتحال تو مارشل لا میں بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نوازشریف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر اپریل 10:54

ایسی صورتحال تو مارشل لا میں بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نوازشریف
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اپریل 2018ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آئے روز ایسے فیصلے دئے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں ہے۔ 22 کروڑ عوام کی کسی طور بھی زبان قبول نہیں ہے۔ اتنی پابندیاں مارشل لا میں نہیں لگیں جتنی اب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اس کیس میں مجھے سزا دلوانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر خود بات کرتے ہیں تو دوسروں کا جواب سننے کی ہمت بھی ہونی چاہئیے۔ موجودہ پارلیمنٹ میں کوئی دم خم نہیں ہے،انشااللہ اگلی پارلیمنٹ میں فیصلے ہوں گے۔ ترقی کا یہ صلہ دیا گیا کہ نیب کیسز بنا دئے گئے۔

(جاری ہے)

ملک میں دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی۔

شہباز شریف میرے کہنے پر سندھ اور خیبرپختونخواہ گئے۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ عمران خان اپنے ارکان اسمبلی کی سرزنش تو کر رہے ہیں لیکن وہ خود اپنی سرزنش بھی کریں کہ انہوں نے کس کے کہنے پر سینیٹ میں ووٹ دیئے، کیا عمران خان قوم کو بتائیں گے کہ انہوں نے تیر کو ووٹ نہیں دیا۔ یہ لوگ تبدیلی لائیں گے جو بے اصولی کی سیاست کر رہے ہیں؟ نواز شریف نے کہا کہ کیا عمران خان چوہدری سرور سے متعلق بھی قوم کو جواب دیں گے کہ سینیٹ الیکشن میں انہیں ووٹ کیسے ملے؟ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس سارے عمل میں صرف (ن) لیگ اور ن لیگ کے اتحادیوں نے ہی شفاف طریقے سے ووٹ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سراج الحق کی بات بہت معنی خیز ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی بولا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ان سے کہا کہ اوپر سے حکم آیا تھا اس پر سینیٹ میں ووٹ دیئے گئے۔ نواز شریف نے لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے کو ناکام بنانے کے لیے جلسہ گاہ میں سیوریج کا پانی چھوڑنے کے بارے میں کہا کہ منظور پشتین کے جلسے میں پانی چھوڑ دینا بہت بڑی زیادتی ہے۔ جلسے میں پانی چھوڑنا کہاں کا آزادی اظہار رائے ہے؟ اہلیہ کلثوم نواز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی طبیعت اب پہلے سے بہترہے، قوم سے دعاؤں کی اپیل ہے ۔