بھارت کا ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ مذاکرا ت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے ، سیدعلی گیلانی

پیر اپریل 11:30

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوںکو بھارت کی غلامی کا ثمر قراردیتے ہوئے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی انقلابی زندگی کا مطالعہ کریں اور بھارت کی غلامی سے آزادی کیلئے اپنی سیرت کو قرآن وسنت سے مزّین کریں۔

کشمیر میڈیا سروس سیدعلی گیلانی نے حید پورہ سرینگر میں علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ وصال کے حوالے سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد ملّت کو مضبوط بنانے اور مسلکی منافرت پھیلانے والے عناصر کی ریشہ دوانیوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ علامہ اقبال کے کلام میں غلامی کو ایک سخت تر موت سے تشبیہ دی گئی ہے اور وہ غلامی کو ایک بہت بڑا ظلم سمجھتے تھے۔

حریت راہنما نے علامہ اقبالؒ کو ایک مفکر انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ غلامی کی زندگی سے نجات حاصل کرنے کیلئے اس کیخلاف جدوجہد کو ایک بڑی نعمت سے تعبیر کرتے ہیں۔سیدعلی گیلانی نے مذاکرات کے ذریعے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل میں بھارت کو سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتے ہوئے کہاکہ اگر بھارت واقعی مذاکراتی عمل میں سنجیدہ ہے تو 2010میں حریت قیادت کی طرف سے پیش کیاجانے والا پانچ نکاتی فارمولہ مذاکرات کی بنیاد ہونی چاہیے ۔

انہوںنے کہاکہاس فارمولہ کا بنیادی نکتہ مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے کبھی بھی بات چیت کے مخالفت نہیں کی اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت کے ذریعے اس دیرینہ تنازعہ کو حل کریں۔ تاہم انہوںنے کہاکہ ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آج تک 150مرتبہ دوطرفہ مذاکرات کیوں بے سود ثابت ہوئے ۔

انہوںنے کہاکہ ان مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے جو کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرنے کی بجائے اسے اپنا اٹوٹ انگ قراردیتا ہے۔ سیدعلی گیلانی نے کہاکہ بھارت کشمیر کے بارے میں مذاکرات پر تذبذب کا شکار ہے ایک طرف تو وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قراردیتا ہے تاہم دوسری طرف وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی بات بھی کرتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ بھارت کا دوغلا پن ہی مسئلہ کشمیر کے حل میں سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ انہوںنے کشمیریوں سمیت مسئلے کے تما م فریقوں کی مذاکرات میں موثر شرکت پر زوردیتے ہوئے کہاکہ کشمیری مسئلے کے بنیادی فریق ہیں اور اس عمل میں انہیں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ انہوںنے مذید کہاکہ مسئلہ کشمیر کو کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے 18قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے بھی حل کیاجاسکتا ہے جن میں کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیاگیا ہے ۔

کٹھوعہ میں ننھی آصفہ کی بے حرمتی اور قتل کے بارے میں سیدعلی گیلانی نے کہاکہ خواتین کی عصمت دری کے واقعات ہماری غلامانہ زندگی کا عکاسی کرتے ہیں۔حریت چیئرمین نے کشمیری نظربندوںکی حالت زار پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کوچنگ سینٹروں کی بندش کو تعلیم کے خلاف جنگ قراردیتے ہوئے کہاکہ بھارت کے اس ہتھکنڈے کا مقصد کشمیری طلباء کو تعلیم سے محروم رکھنا ہے ۔

سیمینار میں تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی ، جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے علاوہ حریت رہنمائوں حاجی غلام نبی سمجھی اورسعید الرحمان شمس معروف کالم نگار ڈاکٹر جاوید اقبال اور زیڈ جی محمد نے اپنے خطاب میں علامہ اقبال کی زندگی کے مختلف گوشوں پر اظہارِ خیال کیاجبکہ اس موقع پر حریت رہنماء زمرودہ حبیب، محمد شفیع ریشی، نثار حسین راتھر، محمد یٰسین عطائی، سید امتیاز احمد شاہ، سید محمد شفیع، عبدالاحد پرہ، یاسمین راجہ، غلام احمد گلزار، بشیر احمد اندرابی، بلال صدیقی ، محمد رفیق اویسی، محمد یوسف مکرو، محمد یوسف مجاہد، محمد اشرف لایا اوردیگر بھی موجود تھے ۔