اشرف صحرائی کی پارٹی رہنماء عبدالغنی بٹ کی غیر قانونی نظربندی کی مذمت

پیر اپریل 11:30

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء اور تحریک حریت جموں وکشمیر کے سربراہ محمد اشرف صحرائی نے پارٹی رہنماء کی مسلسل غیر قانونی نظربندی اور جیل میں شدید علالت کے باوجود ہسپتال لے جانے کی بجائے پولیس اسٹیشن منتقلی کی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بارہمولہ سب جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند پارٹی رہنماء عبدالغنی بٹ عارضہٴ قلب میں مبتلا ہیں تاہم انہیں علاج معالجے کی مناسب سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے ۔

انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ عبدالغنی بٹ کو جیل میں شدید علالت کے دوران ہسپتال لے جانے کی بجائے بومئی سوپور پولیس اسٹیشن منتقل کیاگیا جہاں مرض کی شدت بڑھنے کے بعد انہیں مقامی ہسپتال لے جایاگیا ۔

(جاری ہے)

جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت کوشدید تشویشناک قراردیتے ہوئے انہیں فوری طورپر صورہ ہسپتال منتقل کرنے کا مشور ہ دیا تاہم انسانیت سے عاری کٹھ پتلی حکمرانوں کی ہدایت پر عبدالغنی بٹ کو واپس اسٹیشن منتقل کردیاگیا ۔

اشرف صحرائی نے کہاکہ اہلخانہ کے مطابق عبدالغنی بٹ کی حالت سرینگر سینٹرل جیل میں غیر مستحکم ہے۔انہوں نے جیل انتظامیہ اورقابض حکمرانوں کی لاپرواہی پرافسوس ظاہر کیاکہ کس طرح انسانی جانوں کے ساتھ جان بوجھ کر کھیلا جارہا ہے اور جیل مینول کو بالائے طاق رکھ کر نظربندوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ عدالت عالیہ کی طرف سے رہائی کے احکامات کے باوجود عبدالغنی بٹ کو رہا نہیں کیاجارہا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ اس سے بڑھ کر ظلم وبربریت کی اور کیا مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ عبدالغنی بٹ کل سب جیل بارہ مولہ میں شدید بیمار ہوئے اور جیل انتظامیہ اُنہیں اسپتال لے جانے کے بجائے بومئی سوپورپولیس اسٹیشن لے گئی ۔ تحریک حریت کے چیئرمین نے مارول کاکپورہ کے رہائشی پارٹی رہنمائوں آزاد احمد وگے، محمد یونس اور امتیاز احمد بٹ کے گھروں پر بھارتی اسپیشل آپریشنز گروپ کے اہلکاروں کے چھاپوں اور اُن کی گرفتاری پر بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔