دنیا بھر میں 2017ء کے دوران ترسیلات زر میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا

تارکین وطن کی توقع سے زیادہ ترسیلات سے متعدد ملکوں کی معیشت میں بہتری آئی سال کے دوران کم اور اوسط آمدنی کے حامل ملکوں کو 466 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی گئیں، رواں سال ان میں 4 فیصد اضافے کا امکان ہے بھارت 69 ارب ڈالرکے ساتھ پہلے، فلپائن 33 ارب کے ساتھ دوسرے، میکسیکو 31 ارب کے ساتھ تیسرے، نائیجیریا 22 ارب کے ساتھ چوتھے اور مصر 20 ارب ڈالرکے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا، عالمی بینک

پیر اپریل 13:34

دنیا بھر میں 2017ء کے دوران ترسیلات زر میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا
واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) عالمی بینک نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تارکین وطن کی جانب سے اپنے ملکوں کو ترسیلات زر میں 2017ء کے دوران ریکارڈ 8.5 فیصد اضافہ ہوا تاہم اس دوران ترسیل زر کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا۔ بینک کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2017ء دنیا بھر میں ترسیلات زر کے اعتبار سے ایک بہتر سال رہا، تارکین وطن کی جانب سے توقع سے زیادہ ترسیلات اور ادائیگیاں کی گئیں جو متعدد غریب ملکوں کی معیشت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئیں، ترسیلات زر میں اضافے کی اہم وجہ یورپ،، روس اور امریکا میں ہونے والی ترقی ہے۔

سال کے دوران کم اور اوسط آمدنی کے حامل ملکوں کو 466 ارب کی ترسیلات زر کی گئیں جو 2016ء کی ترسیلات زر 429 ارب ڈالر سے 8.5 فیصد زیادہ ہیں اور ان رقوم میں 2018ء کے دوران مزید 4 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

ترسیلات زر کا سلسلہ قریباً دنیا بھر میں جاری رہا تاہم سب سے زیادہ ترسیلات زر بھارت کو کی گئیں جن کی مالیت 69 ارب ڈالر رہی، فلپائن 33 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے، میکسیکو 31 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے، نائیجیریا 22 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے اور مصر 20 ارب ڈالر ترسیلات زر کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔

دوسری جانب دنیا بھر میں ترسیلات زر کے اخراجات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2018ء کی پہلی سہ ماہی تک عالمی سطح پر 200 ڈالر ترسیل کرنے کا اوسط خرچ 7.1 فیصد رہا جبکہ صحرائے صحارا کے افریقی ممالک 9.4 فیصد خرچ کے ساتھ سب سے زیادہ مہنگے ممالک رہے۔ 2017ء کے دوران یورپ اور وسطی ایشیا کے خطوں کو ترسیلات زر میں سب سے زیادہ (21 فیصد) اضافہ ہوا جبکہ صحرائے صحارا کا خطہ 11 فیصد اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

جن خطوں کو ترسیلات زر کی گئیں ان میں مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک 130 ارب ڈالر کے ساتھ نمایاں رہے، جنوبی ایشیا 117 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے اور لاطینی امریکی ممالک 80 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ رپورٹ کمیٹی کے سربراہ دلیپ راتھا کا کہنا ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں ترسیلات کا سلسلہ بڑھ رہا ہے اس لیے متعلقہ ملکوں، ترقیاتی و دیگر اداروں کو ترسیلاتی اخراجات کم وصول کرنے چاہئیں تاکہ لوگ اپنے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ رقم بھجوا سکیں۔ انھوں نے متعلقہ ملکوں سے کہا کہ وہ ترسیلات زر کے اخراجات میں کمی کے لیے مؤثر ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے اقدامات اٹھائیں۔