کلاسیکل میوزک کے بے تاج بادشاہ استاد بڑے غلام علی خان کو بچھڑے 50 برس بیت گئے

پیر اپریل 13:38

کلاسیکل میوزک کے بے تاج بادشاہ استاد بڑے غلام علی خان کو بچھڑے 50 برس ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) کلاسیکل میوزک کے بے تاج بادشاہ استاد بڑے غلام علی خان کو دنیائے فانی سے کوچ کیے 50برس بیت گئے ۔دیو مالائی شخصیت رکھنے والے استاد بڑے غلام علی خان دو اپریل 1902ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد علی بخش کا تعلق ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے پٹیالہ گھرانے سے تھا۔تاہم بڑے غلام علی خان اس خاندان میں موسیقی کے سب سے بڑے گلوکار بن کر ابھرے۔

انہیں چھ برس کی عمر سے ہی گلوکاری سے عشق ہو گیا تھا جو 66برس کی عمر تک جاری رہا۔انہوں نے ہندوستانی کلاسیکل گلوکاری میں جدت پیدا کی اور ایک نئی طرز متعارف کروائی جسے پٹیالہ قصور اسٹائل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔دھروید اور بہرام خانی گائیکی میں انہیں کمال حاصل تھا، اس کے علاوہ راگِ بہنگ، خیال، ایک تال، درت، راگِ درباری اور راگِ ملہار پر بھی انہیں دسترس حاصل تھی۔

(جاری ہے)

تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور میں ہی رہ گئے تھے لیکن ایک پولیس انسپکٹر نے جب ان کی توہین کی تو وہ دل برداشتہ ہو کر ہندوستان چلے گئے۔جہاں انہیں 1962ء میں ان کی خدمات پر ہندوستانی حکومت نے سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا، اسی دور میں انہوں نے فلم ’’مغلِ اعظم ‘‘کیلئے دوگانے گائے۔انہیں کلاسیکل موسیقی کے تما سر، تالوں اور راگوں پر جو دسترس حاصل تھی وہ ان کے ہم عصراساتذہ بھی کبھی حاصل نہ کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جو راگ گا دیا اس کی حیثیت مسلم اور مستند ہوگئی اور انہیں استاد اعظم کے اسم سے نوازا گیا۔انہوں نے گائیکی میں جومقام حاصل کیا وہ آج تک کسی دوسرے فنکار کو نصیب نہیں ہوسکا۔23اپریل 1968ء کو کلاسیکل میوزک کا بے تاج بادشاہ حیدر آباد میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گیا۔۔موسیقی سے وابستہ لوگو ں نے مرحوم کی برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔