ماضی میں 58ٹوبی کے ذریعے ترقی کا موقع ضائع کیا گیا،

چینی صدرکے دورہ پاکستان سے سی پیک کو حقیقت کا روپ ملا ،ْ وفاقی وزیرداخلہ

پیر اپریل 14:16

ماضی میں 58ٹوبی کے ذریعے ترقی کا موقع ضائع کیا گیا،
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وفاقی وزیرداخلہ،، ترقی اور منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ماضی میں 58ٹوبی کے ذریعے ترقی کا موقع ضائع کیا گیا، چینی صدرکے دورہ پاکستان سے سی پیک کو حقیقت کا روپ ملا۔خطے میں اقتصادی راہداری سے پاکستان عالمی تجارت کامرکزبن جائیگا۔ شہر قائد معاشی سرگرمیوں کا مرکز اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ ہے۔

ہمیں یہ ایونٹ دیکھ کر خوشی ہے کہ کراچی تبدیل ہورہا ہے کیونکہ جب 2013میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو یہ شہر ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے طور پر جانا جاتا تھا۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کا دور اس ملک کی ترقی اور کامیابی کا دور ہے اور سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ابتدا اس ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

(جاری ہے)

پیرکوکراچی میں وزارت منصوبہ بندی اور ترقی اورڈان میڈیا گروپ کے تعاون سے دو روزہ سی پیک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہاکہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، وژن 2025 کے تحت 7 اہم شعبوں پرتوجہ مرکوزہے،معاہدے کے تحت پاکستان میں 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔

نوازشریف اور چین کے صد رنے دونوں ملکوں کے نئے سفر کا آغاز کیا، مربوط علاقائی روابط کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی ملتی ہے۔انہوں نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو بڑا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی مدد سے پاکستان ترقی کا مرکز بن جائے گا اور 2050 تک ایشیا عالمی معیشت کی شرح نمو میں 52 فیصد حصے کا شراکت دار بھی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور نت نئی ایجادات کے باعث دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور یہ ایجادات کی صدی ہے۔

وزیر ترقی اور منصوبہ بندی نے کہاکہ ویژن 2025 کے تحت 7 اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور خطے میں اقتصادی راہداری سے پاکستان عالی تجارت کا مرکز بن جائے گا۔۔احسن اقبال نے کہاکہ چین نے پاکستان کی طرف اس وقت ہاتھ بڑھایا جب کوئی یہاں 10 ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔سی پیک پر اٹھنے والے تحفظات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یہاں لابیز موجود ہیں جو سی پیک سے خوش نہیں ہیں لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ منصوبہ موت کا نیٹ ورک نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کچھ لوگ کہتے ہیں چین ایسٹ انڈیا کمپنی بن جائے گا یہ سب پروپیگینڈا ہے اور ان لوگوں نے تاریخ نہیں پڑھی کیونکہ چین شراکت داری چاہتا ہے اور اس سے پاکستانی تاجروں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔س سے قبل چینی سفیر یا جنگ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 40 برسوں سے چین اپنی معیشت کی ترقی اور اسے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے سوشلزم اور معیشت کو ایک ساتھ رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین،، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال بنانا چاہتا ہے اور ہم سی پیک کو ایک اہم منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور مجھے فخر ہے کہ پانچ سال کے عمل درآمد کے بعد سی پیک پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کررہا ہے۔چینی سفیر یا جنگ نے کہاکہ ہم سی پیک سے صرف ایک اقتصادی ترقی نہیں بلکہ معاشرے کی ترقی چاہتے ہیں۔اس دو روزہ کانفرنس میں ایک سمپوزیم معیشت اور فنانس کی حرکی بھی منعقد ہوگا، جہاں سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین اور سابق وزرا خزانہ شوکت ترین اور عبدالحفیظ شیخ تبادلہ خیال کریں گے۔یہ کانفرنس آج تک جاری رہے گی، جس کے دوسرے روز چین کا نقطہ نظر کے عنوان سے ایک سیشن منعقد کیا جائے گا، جس میں چینی سفیرخطاب کریں گے۔