بھارت کے نائب صدر نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی درخواست مسترد کر دی

پیر اپریل 14:20

نئی دہلی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) بھارت کے نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی درخواست ناقابل قبول، غیر قانونی اور غیر مناسب قرار دیکر مسترد کر دی۔دیپک مشرا کے خلاف بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیا سبھا کے مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 64 ارکان نے ایک درخواست دی تھی جس میں انہوں نے چیف جسٹس پر غیر شائستہ گفتگواور حساس مقدمات اور ججز کی تقرریوں کے لئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزامات عائد کئے تھے۔

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے صحافیوں کو اپنا تحریری فیصلہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں سامنے آنے والے الزامات سے عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہو گا جو بھارتی آئین کا بنیادی جز ہے،انھوں نے کہا کہ تمام تر حقائق کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کسی بھی بنیاد پر چیف جسٹس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو منظور کرنا غیر قانونی،غیر مناسب اور ناقابل قبول ہے۔

(جاری ہے)

مشرا گذشتہ سال اگست میں چیف جسٹس انڈین سپریم کورٹ تعنیات ہوئے تھے اور رواں سال اکتوبر میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔۔بھارتی آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کو صرف صدر کے حکم پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں دو تہائی ارکان کی منظوری کے بعد بر طرف کیا جا سکتا ہے۔