انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کی سماعت

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اپریل 14:11

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کی سماعت
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 اپریل۔2018ء) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کی بے جا مداخلت پر فاضل جج برہم ہوگئے۔۔لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق پولیس کے مقدمے کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عوامی تحریک کے وکلاءنے استغاثہ کے گواہ کانسٹیبل سائیں اور سب انسپکٹر ثناءاللہ سے جرح کی۔

عدالتی کارروائی کے دوران پولیس ملزمان کے وکلاءکی مداخلت اور کارروائی میں خلل ڈالنے پر اے ٹی سی جج نے عدالتی آداب کا خیال رکھنے کی بار بار تنبیہ کی اور ان وکلاءکو روسٹرم سے ہٹ جانے کا حکم دیا جو ملزمان کے وکلاءنہیں تھے، اے ٹی سی جج کے بار بار حکم کے باوجود ملزم پارٹی نے شوروغل جاری رکھا جس پر جج نے سختی سے کہا کہ اس شور کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا،عدالتی عمل ہر صورت قانون کے مطابق آگے بڑھے گا۔

(جاری ہے)

کمرہ عدالت میں عوامی تحریک کے وکیل مستغیث جواد حامد نے پراسیکیوٹر وقار بھٹی کی بے جا مداخلت پر احتجاج کیا اور کہا کہ سرکاری وکیل شاہ سے زیادہ شاہ کاوفادار بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جج کے بار بار منع کرنے پر بھی وقار بھٹی نے مداخلت بند نہ کی۔۔پولیس کانسٹیبل سائیں کے بیان پر اس وقت صورتحال دلچسپ ہو گئی جب اس نے کہا کہ وہ اینٹ لگنے سے وہ بے ہوش ہو گئے اور عالم بے ہوشی میں وقوعہ بھی دیکھتے رہا، کانسٹیبل کو شرمندگی سے بچانے کے لئے پراسیکیوشن اور پولیس وکلاءجرح کے عمل میں خلل ڈالتے رہے۔

متعلقہ عنوان :