این ایل سی نے گلگت میںاپلائیڈ ٹیکنالوجیز انسٹیٹیوٹ قائم کر دیا،

کلاسوں کا اجراء مئی میں متوقع، زیرِ تربیت مستحق نوجوانوں کو مفت ہاسٹل ، تین ہزار روپے ماہوار وظیفہ بھی دیا جائے گا گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو سی پیک کے جاری منصوبوں میں روزگار کے حصول کے مواقع ملیں گے

پیر اپریل 15:07

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو جدید تکنیکی تربیت کی فراہمی اور انہیں پاک چین اقتصادی راہداری کے جاری منصوبوں میں روزگار کے حصول کے لئے نیشنل لاجسٹکس سیل نے گلگت بلتستان حکومت اور فورس کمانڈ نادرن ایریاز کے تعاون سے گلگت میں تکنیکی تربیت کا ادارہ قائم کر دیا۔اپلائیڈ ٹیکنالوجیز انسٹیٹیوٹ علاقہ میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جو کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قریب تعمیر کیا گیا ہے ۔

انسٹیٹیوٹ میں کلاسوں کا اجراء مئی میں متوقع ہے ۔ادارہ میں زیرِ تربیت مستحق نوجوانوں کو مفت ہاسٹل کی سہولت کے ساتھ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے تعاون سے تین ہزار روپے ماہوار وظیفہ بھی دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ادارہ کے لئے سول، مکینیکل، الیکٹریکل اور ہوٹل مینجمنٹ کے شعبوں میں ماہر اور تربیت یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ جدید سامان سے آراستہ لیبارٹریوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

اپلائیڈ ٹیکنالوجیز انسٹیٹیوٹ گلگت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت یافتہ انسانی وسائل کو فروغ دے کر پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے مطلوبہ افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ این ایل سی مندرہ، دینہ ،امان گڑھ اور خیر پور کے مقامات پر قائم تکنیکی تربیتی ادارے کامیابی سے چلا رہا ہے جہاں ان علاقوں کے نوجوانوں کو بالعموم اور ملک کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا ء کو بالخصوص جدید تربیتی کورسز کرائے جاتے ہیں ۔

یہ ادارے نیشنل ٹریننگ بیورو اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن سے منظور شدہ ہیں۔ مجموعی طور پر 50ہزار سے زیادہ طلباء اپلائیڈ ٹیکنالوجیز انسٹیٹیوٹس سے تربیت مکمل کر چکے ہیں ۔ این ایل سی کے زیر اہتمام ان درسگاہوں کے فارغ التحصیل طلباء نہ صرف اندرون ملک بلکہ خلیجی ممالک کے معروف اداروں میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بھیج کر ملک کی معیشت کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔