بیٹوں کو کھلی چھوٹ نہیں دے رکھی ۔ اویس نواز کے خلاف مقدمہ اور پروپیگنڈہ مخالف سیاسی قوتوں کی کارستانی ہے‘ملک محمد نواز خان

لیگ اور پی ٹی آئی کا میرے خلاف مشترکہ اوربے بنیاد احتجاج ثابت کرتا ہے کہ نعیم اصغر اور اکرام اصغر مخالف سیاسی قوتوں کے آلہ کار ہیں

پیر اپریل 15:10

کوٹلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سینئر رکن ،سابق سینئروزیر، و مسلم کانفرنس کے مرکزی رہنما ملک محمد نواز خان نے کہا ہے کہ اپنی رواداری اور شرافت کے باعث مسلسل پینتیس سال سے اسمبلی کا رکن ہوں ۔ بیٹوں کو کھلی چھوٹ نہیں دے رکھی ۔ اویس نواز کے خلاف مقدمہ اور پروپیگنڈہ مخالف سیاسی قوتوں کی کارستانی ہے۔

ن لیگ اور پی ٹی آئی کا میرے خلاف مشترکہ اوربے بنیاد احتجاج ثابت کرتا ہے کہ نعیم اصغر اور اکرام اصغر مخالف سیاسی قوتوں کے آلہ کار ہیں ۔اویس نواز کو ملک نواز کا بیٹا ہونے کی سزا دی جار ہی ہے ۔ جرم ثابت ہو جائے تو بیٹے کا ساتھ نہیں دوں گا ۔ ان خیالات کا اظہار انھوںنے اپنے وضاحتی بیان میں کیا ہے ۔ ملک محمد نواز خان نے صحافیوں کے استفسار پر بتایا کہ نعیم اصغر ملک اور اکرام اصغر ملک کو جانتا تک نہیں اور نہ ہی میرا یا میرے بیٹوں کا ان کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے ۔

(جاری ہے)

البتہ شنید ہے کہ ان دوبھائیوں نے دھنواں میں آبادی کے اندر کرش پلانٹ لگوانے اور جنگلات کا رقبہ لیز پر لینے کی کوشش کی جس پر مقامی آبادی ان کے خلاف عدالت میں چلی گئی ۔ چنانچہ مقامی آبادی اور نعیم اصغر برادران کے مابین مقدمے بازی چل رہی ہے ۔ میری مخالف سیاسی قوتیں جن کا تعلق مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی سے ہے اور تیس سالوں سے میرے ہاتھوں شکست خوردہ ہیںنعیم اصغر ملک اور اسکے بھائی اکرام اصغر ملک کو میرے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔

کوٹلی پولیس اسے معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائیری کرے ۔ میں سیاست میں رواداری اور شرافت کا قائل ہوں ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ حلقہ ایک کے عوام مسلسل ساتویں الیکشن میں مجھے کامیاب کر چکے ہیں ۔ میرے ہاتھوں بار بار کی شکست نے مخالفین کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے ۔ اب وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں ۔ میں نے بیٹوں کو کھلی چھوٹ نہیں دے رکھی ۔ بیٹے کی غلطی ثابت ہوجائے تو اس کا ساتھ نہیں دو نگا ۔ لیکن اگر اسے ملک نواز کا بیٹا ہونے کی سزا دی جا رہی ہو تو ایسی صورت میں مخالفین کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو نے دوں گا ۔ انھوںنے مزید کہا کہ مخالفین میرے صبر اور برداشت کا امتحان مت لیں ۔