پاکستان کے ساتھ مثالی تعلقات چاہتے ہیں، چینی سفیر

پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال بنانا چاہتا ہے ، ہم سی پیک کو ایک اہم منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں ، اس سے صرف ایک اقتصادی ترقی نہیں بلکہ معاشرے کی ترقی چاہتے ہیں، فخر ہے پانچ سال کے عمل درآمد کے بعد سی پیک پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کررہاہے ، یائو جنگ کا سی پیک سمٹ سے خطاب

پیر اپریل 15:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) چین کے سفیر یائو جنگ نے کہاہے کہ چین پاکستان کے ساتھ مثالی تعلقات چاہتاہے اور وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال بنانا چاہتا ہے اور ہم سی پیک کو ایک اہم منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں ، سی پیک سے صرف ایک اقتصادی ترقی نہیں بلکہ معاشرے کی ترقی چاہتے ہیں،مجھے فخر ہے کہ پانچ سال کے عمل درآمد کے بعد سی پیک پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کررہاہے، گزشتہ 40 برسوں سے چین اپنی معیشت کی ترقی اور اسے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے سوشلزم اور معیشت کو ایک ساتھ رکھا ہے۔

وہ پیر کو یہاں باغ جناح میں وزارت ترقی اور منصوبہ بندی اور ایک نجی میڈیا گروپ کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ دو روزہ سی پیک سمٹ کے پہلے روز خطاب کررہے تھے ۔

(جاری ہے)

کانفرنس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،، گورنر سندھ محمد زبیر، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ بھی شریک ہوئے۔ چینی سفیر یا ئوجنگ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 40 برسوں سے چین اپنی معیشت کی ترقی اور اسے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور ہم نے لوگوں کے فائدے کے سوشلزم اور معیشت کو ایک ساتھ رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیگر ریاستوں کے لیے ایک مثال بنانا چاہتا ہے اور ہم سی پیک کو ایک اہم منصوبے کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور مجھے فخر ہے کہ پانچ سال کے عمل درآمد کے بعد سی پیک پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کررہا ہے۔چینی سفیر یائو جنگ کا کہنا تھا کہ ہم سی پیک سے صرف ایک اقتصادی ترقی نہیں بلکہ معاشرے کی ترقی چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ کانفرنس پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق ہونے والے بڑے ایونٹ میں سے ایک ہے، جہاں عوام کو سی پیک کے مقاصد سے متعلق آگاہی اور اس کے چھتری تلے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے بارے میں بھی معلومات دی جا رہی ہیں ۔دو روزہ کانفرنس میں ایک سمپوزیم معیشت اور فنانس کی حرکیات بھی منعقد ہوگا، جہاں سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین اور سابق وزرا خزانہ شوکت ترین اور عبدالحفیظ شیخ تبادلہ خیال کریں گے۔یہ کانفرنس منگل 24 اپریل تک جاری رہے گی، جس کے دوسرے روز چین کا نقطہ نظر کے عنوان سے ایک سیشن منعقد کیا جائے گا، جس میں بھی یا ئوجنگ خطاب کریں گے۔