کراچی میں بجلی کی بندش کے خاتمے کیلئے سوئی سدرن اورکے الیکٹرک کے درمیان تنازعہ حل ہوگیا ہے، سوئی سدرن نے کے الیکٹرک کی ضروریات پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، امید ہے پانی کی قلت کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا

حکومت کمپنی کو تحویل میں لینے یا کراچی میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کیلئے کسی دوسرے ادارے کے قیام کا ارادہ نہیں رکھتی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی توانائی بارے کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو دونوں اداروں کے درمیان واجبات کے مسئلے کے جلد تصفیہ کے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں کمیٹی قائم

پیر اپریل 15:40

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کراچی میں گذشتہ کئی ہفتوں سے بجلی کی بندش کے جاری مسئلے کے خاتمے کیلئے سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور کراچی الیکٹرک ((کے الیکٹرک )کے درمیان تنازعہ حل ہوگیا ہے۔امید ہے کہ بجلی کے بحران کے باعث پانی کی قلت کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا جیسا کی سوئی سدرن نے کے الیکٹرک کی ضروریات پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں گورنر ہاؤس میں توانائی کے بارے میں کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہاکہ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو ایس ایس جی پی ایل اور کے الیکٹرک کے درمیان واجبات کے مسئلے کے جلد تصفیہ کے معاملے کا جائزہ لے گی۔

(جاری ہے)

کے الیکٹرک کی اجارہ داری کے بارے میں ایک سوال کے جواب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کمپنی کو تحویل میں لینے یا کراچی میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کیلئے اسی طرح کے کسی دوسرے ادارے کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک نیپرا ٹیرف کے تحت کام کر رہی ہے اور کوئی اضافی رقم چارج نہیں کر سکتی۔ ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ سے متعلق سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ابھی تک بجلی کی پیدوار طلب سے زیادہ ہے تاہم ایسے علاقے جہاں چالیس ،پچاس یا 60 فیصد تک بجلی چوری ہو رہی ہے انہیں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے متاثرین سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ یہ بدقستمی ہے تاہم ایسے علاقوں میں بجلی کی فراہمی نہیں ہوسکتی جہاں بھاری نقصانات ہوتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں 30 ارب روپے کی مختص رقوم کا ذکر کیا جو ادا کر دی گئی ہیں۔ گرین لائن منصوبے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے بنیادی ڈھانچے کیلئے فنڈز فراہم کر دیئے ہیں اور سندھ حکومت کو بسیں فراہم کرنا تھیں تاہم اگر وہ نہیں کرسکتی تو وفاقی حکومت سے کہے وہ فراہم کر سکتی ہے۔

قبل ازیں کراچی میں بجلی کے بحران کے پیش نظر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہاں توانائی کے بارے میں کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جو گورنر ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف،، وفاقی وزیر بجلی اویس لغاری، وزیر مملکت بجلی عابد شیر علی،، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ متفاح اسماعیل اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملک میں بجلی کی موجودہ پیداواری صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔