نااہل حکمرانوں کی عدمِِ توجہی کے باعث معاشی حب کراچی بحرانوں کا شہر بن گیا ہے،آل کراچی اتحاد

شدید گرمی میں بدترین لوڈشیڈنگ اور احتجاجی مظاہروں کے بڑھتے ہوئے سلسلے نے شہر کا کاروبار تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے، محمد آصف گلفام

پیر اپریل 15:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر محمد آصف گلفام نے حکومت سندھ کی بدترین کارکردگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہل حکمرانوں کی عدمِِ توجہی کے باعث معاشی حب کراچی بحرانوں کا شہر بن گیا ہے، شدید گرمی میں بدترین لوڈشیڈنگ اور احتجاجی مظاہروں کے بڑھتے ہوئے سلسلے نے شہر کا کاروبار تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے، معیشت کا شاداب گلشن کراچی مسائل کی خزاں کی نذر ہوگیا ہے، تجارتی سرگرمیاں 70فیصد تباہ تاجروں کو یومیہ ایک ارب روپے سے زائد خسارے کا سامنا ہے، شہر کی تمام سیاسی اور تجارتی جماعتیں بجلی اور پانی کے بحران کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں، پیرکومختلف مارکیٹوں میں لوڈشیدنگ کی بڑھتی ہوئی شکایات پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے آصف گلفام نے کہا ہے کہ تاجروں کا عید سیل سیزن لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں برباد ہوتا ہوا نظر آرہا ہے، رواں ماہ تین تین شفٹوں میں چلنے والی صنعتیں اور کارخانے لوڈشیڈنگ کے سبب بمشکل ایک شفٹ بھی پوری نہیں کرپارہے ہیں، مندی اور کساد بازاری کے نتیجے میں بیشتر تاجر اور کارخانے دار ملازمین کی چھانٹی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، بیروزگاری میں اضافہ اور جرائم بڑھ رہے ہیں، انھوں نے وزیرِاعلیٰ سندھ کی بے اختیاری اور بے بسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ناک کے نیچے سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے الیکٹرک کے درمیان جنگ جاری ہے اور وہ مشکلات میں گھرے اہلیانِ شہر کی مدد سے قاصر ہوکر وفاق تک رسائی نہ ہونے کا رونا رورہے ہیں، انھوں نے موجودہ معیشت کُش حالات کو بدترین اور تباہ کُن وفاقی مالیاتی بجٹ کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے وفاق اور حکومتِ سندھ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کا بحران فوری طور پر ختم کرکے شہر میں پیدا ہونے والی نفسا نفسی، مایوسی اور اشتعال انگیز صورتحال پر قابو پایا جائے، محمد آصف گلفام نے کہا کہ کراچی میں مختلف نوعیت کے مسائل حکومتِ سندھ کے قابو سے باہر ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں، کراچی سرکاری اداروں کی بدعنوانیوں کا گڑھ بن گیا ہے ، جرائم روکنے کے ذمے دار ہاتھ مجرموں کی پشت پناہی کررہے ہیں، بے بس اور بے حِس حکومتِ سندھ بہتری کے اقدامات کرنے کے بجائے پرفریب بیانات سے کام چلارہی ہے، انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے بیانات سے ان کی بے بسی اور بے اختیاری جھلک رہی ہے، کراچی کے سنگین حالات دیکھ کر لگتا ہے سندھ پر واجد علی شاہ رنگیلے کا راج ہے، حکومت کے ماتحت کوئی بھی ادارہ اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں مخلص نظر نہیں آتا، انھوں نے سندھ اور کراچی کے تاجر و عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے موجودہ نااہل اور بدعنوان حکمرانوں کو تیسرا موقع فراہم کیا گیا تو اہلیانِ کراچی کو مشکلات سے نکلنے کا پھر کبھی موقع نہیں مل سکے گا، صرف کراچی کے حقوق کی بات کرنے والی جماعتیں آئیندہ تاجروں کے ووٹ کی حقدار ہونگی۔