شاخوں اور نہروں کے ٹیل کے علاقوں میں پانی کی بدترین قلت کی ذمہ دار حکومت سندھ ہے ،افضال آرائیں

پیر اپریل 16:53

نوکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) جماعت اسلامی ضلع میرپورخاص کے امیر محمد افضال آرائیں تحصیل جھڈو کے امیر ڈاکٹر شمشاد علی خان نے اپنے ایک پریس بیان میں جمڑاؤ اور مٹھڑاؤ کینال کی سب ڈویژن کی شاخوں اور نہروں کے ٹیل کے علاقوں میں پانی کی بدترین قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیا ہے،رہنماوں نے کہا کہ ٹیل کے علاقوں میں پانی کے جاری سنگین بحران میں انسان اور جانور پینے کے پانی کیلیے ترس گئے ہیں،علاقے کے منتخب نمائندوں نے مشکل کی اس گھڑی میں پریشان حال عوام سے منہ پھیر کر انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو کہ بدترین عوام اور کاشتکار دشمنی کے مترادف ہے علاقہ میں مسلسل کئی سالوں سے پانی کی قلت بدستور نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے صورت حال برقرار رہنے سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے میرپورخاص عمرکوٹ اور بدین کے ٹیل کے علاقوں میں زمینوں کا 80فیصد حصہ بنجر ہو چکا ہے اور کاشتکار شدید مالی بدحالی کا شکار ہیں پورے علاقے میں قلت آب کے باعث خریف کا سیزن ختم ہوجانے کے باوجود بھی موسم خریف کی فصل کہیں کاشت نہیں ہو سکی ہے فصلیں کاشت نہ ہونے کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑے گا اور کپاس سمیت دیگر زرعی اجناس کا ٹارگٹ پورا کرنا مشکل ہو جائے گا انہوں نیکہا کہ ہم پانی کی فراہمی کا مطالبہ کرنے متاثرہ کاشتکاروں کے ساتھ ہیں اور 26اپریل کو جھڈو میں شٹر ڈاون ہڑ تال سمیت ہر طرح کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے علاقے میں جلد از جلد پانی فراہم کیا جائی-