پاکستان میں ٹیکس کے نظام میں سنجیدگی سے جانچ پڑتال کی ضرورت ہے، اے سی سی اے کی بجٹ تجاویز

پیر اپریل 16:57

پاکستان میں ٹیکس کے نظام میں سنجیدگی سے جانچ پڑتال کی ضرورت ہے، اے سی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) سالانہ بجٹ اے سی سی اے کیلئے ایک موقع ہیں تاکہ وہ پالیسی سازوں اور بجٹ ’’صارفین‘‘ کے لئے تبصرہ کے ذریعے عوامی مفاد میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ اے سی سی اے کو یقین ہے کہ ٹیکس نظام معاشرے کی تشکیل اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سالانہ بجٹ میں سادگی، اعتماد اور استحکام کے مقاصد کے مطابق ٹیکس کے نظام کے عمل کو بہتر بنانے کا موقع ہونا چاہئے۔

اے سی سی اے نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کے نظام میں سنجیدگی سے جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ اس وقت ٹیکس دہندگان اور عام عوام کا ٹیکس حکام پر اعتماد انتہائی کم ہے۔ نتیجتاً ٹیکس چوری کے باعث قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور سیاہ معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔

(جاری ہے)

جمع کرائی گئی بجٹ تجاویز کی دستاویز میں اس بے اعتمادی سے متعلق متعدد مسائل اور تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے۔

دستاویز میں چیئرمین اے سی سی اے پاکستان ٹیکسیشن سب کمیٹی عمر ظہیر میر، عبدالوہاب، بلال ظفر، جنید عباس، مرزا فصیح الدین بیگ، منیر ملک اور یاور محمد پر مشتمل اے سی سی اے کی ٹیکس سے متعلق سب کمیٹی کے ممبران کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار شامل ہیں۔ اہم ٹیکس پالیسی میں ٹیکس بیس میں توسیع کو شامل کیا گیا ہے۔ براہ راست ٹیکس کے لئے موجودہ چھوٹے ٹیکس دہندگان کا بیس کاروباری مسابقت کے لئے سنجیدہ پھیلائو کے ساتھ ایک محدود حد تک ٹیکس کے بوجھ میں مسلسل اضافہ کو برداشت کر سکتا ہے۔

علاوہ ازیں ٹیکس کی شرح کو کم کر کے یک ہندسی کرنے، ڈائریکٹ ٹیکسیشن پر رفتار میں اضافہ، نادرا کے ڈیٹا بیس کے استعمال، ود ہولڈنگ ٹیکس ڈیٹا کے استعمال اور اثاثہ جات کی تشخیص تجاویز میں شامل کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ سٹرکچرل ریفارمز ایک ٹیکس دہندہ کے تمام ٹیکس امور کیلئے ایک سنگل ٹیکس ریٹرن تجویز کرتی ہیں جس میں وفاقی و صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے نظاموں کے انضمام کے ساتھ تمام ادارے ملک میں وفاقی و صوبائی ٹیکس قوانین کے فروغ کیلئے متعلقہ اعداد و شمار حاصل کر کے استعمال کر سکیں۔

اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح خطے میں سب سے کم ہے تاہم کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 30 فیصد تک بلند سطح پر ہے، ٹیکس حکام کو اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ سیلز ٹیکس کی شرح بھی خطے میں انتہائی بلند ہے جو 17 فیصد ہے جو ایشیاء میں 12 فیصد کے قریب ہے ((بھارت اور بنگلہ دیش میں 15 فیصد، انڈونیشیا میں 10 فیصد اور ملائیشیا میں 6 فیصد ہی)، سیلز ٹیکس کو بھی کم کرنا چاہئے اور اسے براہ راست ٹیکس کے متبادل استعمال کرنے کی بجائے ٹیکس بیس کی توسیع کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔

مندرجہ بالا چیلنجز اور تجاویز کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدت کا وقت ہے جس میں پاکستان میں کاروباری ایکو سسٹم میں سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔یہ وقت ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اس بارے میں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کیسے جدید ٹیکنالوجی کی ترقی بشمول آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، مشین لرننگ، بگ ڈیٹا اور Crypto کرنسی کو مناسب پالیسیوں اور شمولیت کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹیکس کی گنجائش پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی تجویز کیا گیا کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسائل، غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی، بڑے غیر معدنی قدرتی وسائل کے ذخائر، سی پیک کی آمد اور قومی کرنسی کی قدر میں کمی میں ایک قومی crypto کرنسی کافی فوائد دے سکتی ہے۔ اے سی سی اے میں ڈائریکٹر آف پروفیشنل insights میگی میک گی نے کہا کہ عالمی اکائونٹینسی کا پیشہ مستحکم معیشتوں اور محفوظ معاشروں کو فعال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے جہاں صارفین کا استحصال نہیں کیا جاتا۔

اے سی سی اے ریگولیٹرز اور اکائونٹینسی کے پروفیشن کے مابین قریبی تعلقات کی حمایت کرتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایک مضبوط ریگولیٹری نقطہ نظر تیار کیا جا سکے جو ڈیجیٹل ایج میں مکمل طور پر موزوں ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسائل، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، غیر معدنی قدرتی وسائل کے ذخائر، سی پیک کی آمد اور قومی کرنسی کی قدر میں کمی کے ضمن میں ایک قومی crypto کرنسی کافی فوائد پیش کر سکتی ہے۔

ہیڈ آف اے سی سی اے پاکستان سجید اسلم نے کہا کہ ٹیکس انتظامیہ کو ان مواقع کو سمجھنا چاہئے جو ڈیجیٹلائزیشن کا عمل انہیں پیش کر سکتا ہے لیکن ٹیکس دہندگان کی صلاحیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ جب ٹیکس دہندگان کو تیار کیا جاتا ہے تو انہیں ٹیکس کمپلائنس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔