ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مریضوں اور ہسپتالوں کو بائیو میٹرک کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک نہ کرنے پر از خود نوٹس کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

پیر اپریل 17:09

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مریضوں اور ہسپتالوں کو بائیو میٹرک کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک نہ کرنے پر از خود نوٹس کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔یہ درخواست ینگ ڈاکٹرز اسویسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے حالات کی بہتری اور مریضوں کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات کی فراہمی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مریضوں، سرکاری و نجی ہسپتالوں، کلینکس،لیبارٹریوں اور میڈیکل سٹوروں کو بائیو میٹرک نظام کے ساتھ مربوط انداز میں منسلک نہیں کیا جاتا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی بائیومیٹرک نظام کو ملک کے تمام ہسپتالوں، ہسپتالوں کے اندرتمام شعبہ جات کے علاوہ لیبارٹریوں اور میڈیکل سٹوروں کے ساتھ منسلک کر کے مریضوں کو نیشنل آئی ڈی کارڈ یا برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر منفرد میڈیکل نمبر الاٹ کیا جائے۔

(جاری ہے)

اس منفرد نمبر کی بنیاد پرہسپتال سے رجوع کرنے والے مریضوں کی بیماری، نوعیت، وجوہات، تشخیص، لیبارٹری ٹیسٹنگ رپورٹس، تجویز کی جانے والی ادویات کمپیوٹرائز ڈ طور پر اپ ڈیٹ ہوتی رہیں، مریض ہسپتال کے ایک شعبے سے دوسرے شعبے ،ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال، ایک لیبارٹری سے دوسری لیبارٹری یا ایک میڈیکل سٹور سے دوسرے میڈیکل سٹور جانے والے مریض کے مرض کا پچھلا ڈیٹا ہر جگہ دیکھا اور سمجھا جا سکے، اس نظام کے نفاذ سے ہسپتالوں میں ہونے والی کرپشن،، مریضوں کی لمبی قطاروں اورانہیں سہولیات کی عدم فراہمی کا تدارک ممکن ہو گا اگر کسی وجہ سے مریض کو دوائی یا کوئی سہولت دستیاب نہیں ہو سکے گی تو اس کا ریکارڈ بھی منظر عام پر رہے گا جس کے ذریعے ذمہ داروں کا تعین بھی ممکن ہو گا۔