قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی امور کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس

کشمیری مہاجرین کیلئے بنائی گئی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں بے قاعدگیوں پر سخت برہمی کا اظہار

پیر اپریل 17:16

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی امور کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی امور کشمیر و گلگت بلتستان نے کشمیری مہاجرین کیلئے بنائی گئی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں بے قاعدگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بے قاعدگیوں میں جو ممبران قانون ساز اسمبلی اور بیورو کریٹس ملوث ہیں ان کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی جبکہ کمیٹی نے یہ رپورٹ ازسرنو مرتب کرنے کی ہدایت کر دی۔

کمیٹی کا اجلاس پیر کو کمیٹی کے چیئرمین ملک ابرار احمد کی صدارت میں اولڈ پپس ہال پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کو گلگت بلتستان میں زراعت اور تجارت کے فروغ پر بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ علاقہ کی 48 فیصد آمدن زراعت سے ہوتی ہے، گلگت بلتستان میں فروٹ کی پیداوار کل آمدن کا 60 فیصد ہے، سب سے زیادہ پیداوار خوبانی کی ایک لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن ہوتی ہے، خوبانی کا 34 فیصد اور سیب 17 فیصد جبکہ چیری 6 فیصد ضائع جاتی ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں آلو کی کھپت تین لاکھ میٹرک ٹن ہے، 6 سے 7 ہزار میٹرک آلو درآمد کرنا پڑتا ہے، گلگت بلتستان میں 60 سے 70 ہزار میٹرک آلو پیدا ہوتا ہے، اس علاقہ میں سہولیات دے کر 2 ارب 40 کروڑ روپے کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خوبانی کی پیداوار میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے، سیب کی پیداوار میں 24 ویں جبکہ چیری کی پیداوار میں 49 ویں نمبر پر ہے، اگر گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی خوبانی کو شامل کیا جائے تو پاکستان خوبانی کی پیداوار میں دنیا میں دوسرے نمبر پر آ سکتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ خوبانی کی تجارت برآمدات میں شامل نہیں کی جاتی، سٹوریج اور پیکنگ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے پھلوں کی بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔ کشمیری مہاجرین کیلئے بنائی جانے والی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں بے قاعدگیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی اراکین نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ نیب کو بھجوایا جائے۔