سانحہ ماڈل ٹا ئون استغاثہ میں وہ تمام ثبوت فراہم کئے جائیں جن کی بنیاد پر حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنا ضروری تھا، لاہور ہائیکورٹ، عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

پیر اپریل 17:41

سانحہ ماڈل ٹا ئون استغاثہ میں وہ تمام ثبوت فراہم کئے جائیں جن کی بنیاد ..
لاہور۔23 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹا ئون استغاثہ میں وہ تمام ثبوت فراہم کئے جائیں جن کی بنیاد پر حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنا ضروری تھا۔ عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔ پیر کو لاہورہائیکورٹ کے جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سیاست دانوں کے خلاف ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا۔

(جاری ہے)

ادارہ منہاج القرآن کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت وہ مواد ہمارے پاس نہیں تھا لیکن اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔

بنچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ نئے شواہد کا جائزہ کس طرح لیا جا سکتاہے۔ عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیے جانے والی دستاویزات 25 اپریل تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ سابق آئی جی مشتاق سکھیرا نے سانحہ ماڈل ٹائون استغاثہ میں دہشت گردی عدالت کی جانب سے اپنی طلبی کے نوٹس کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔